خدارا اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خود نظر نہیں رکھتے تو نیلی ور دی والے کو بھی تنقید کا نشانہ مت بنائیں۔

تحریر آمنہ علی الپیال 

ہر غلط کام نیلی وردی والے نے ہی نہیں سدھارنا والدین کو بھی اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی جو والدین خود اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھتے ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارردگی پر تنقید کریں بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں بچوں کے ہاتھوں میں مہنگے موبایل فونز تھما دیتے ہیں لاکھوں روپےجیب خرچ دے کر والدین سمجھتے ہیں اپنے فرائض سے سبکدوش ہوگئے ہیں اور پھر اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں
پچھلے کچھ روز سے بچی کے اغواہ کی خبر سوشل میڈیا پر زیر گردش تھی :
ساتویں جماعت کی طالبہ سکول سے واپسی پر گھر نہیں پہنچی اتوار کی شام سات بجے کی بعد سے بچی کا کچھ علم نہیں ۔ بچی کے والد نے کہا کہ بچی کو کسی نے اغواہ کیا ہے واقعہ کی رپورٹ تھانے میں کرائی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی خبر نہیں
اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر واویلا مچایا گیا پولیس کی کارکردگی پر طرح طرح کے سوالیہ نشان اٹھائے گئے کہ ابھی تک پولیس کچھ نہیں کر سکی فیس بک کے ہر دوسرے گروپ اور پوسٹ میں بچی کے حوالے سے خبریں چل رہی تھیں ظاہر ہے بات ہی پریشانی کی تھی والدین کیلئے تو تھی لیکن ہر کوئی ہی بچی کے اغواء پر پریشان تھا اور اس کا قصوروار پولیس کو قرار دے رہا تھا کہ ابھی تک کچھ خبر نہیں کے بچی کس حال میں ہے اور پولیس آرام سے بیٹھی ہے اور پھر آج یہ خبرملی

کہ چودہ سالہ بچی کمشکا کو سوات سے پولیس نے ڈھونڈ نکالا۔ اور ساتھ ہی پولیس کی کار کردگی پر بولنے والے اسلام آباد پولیس کو شاباش دینے لگے جنہوں نے 48 گھنٹوں کے اندر بچی کا سراغ لگا لیا۔
‏بچی اپنی مرضی سے بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔یقین مانیں یہ پولیس والے بھی ہم میں سے ہی ہیں ہمارے جیسے انسان ہیں بلاوجہ تنقید کرنا ضروری نہیں ہے پولیس بھی اپنا کام کر رہی ہے اور
کبھی کبھی والدین صرف اولاد کی بہترین تعلیم ان کے مستقبل کی فکر میں ان کی سرگرمیوں پر دھیان نہں رکھتے اور پھر اس ساری محنت اور کوششوں کے باوجود اولاد اپنے والدین کے لیے کسی بڑی پریشانی اور دوسروں کے سامنے شرمندگی کا باعث بن جاتی ہے۔ ایسے موقع پر والدین سارا ملبا گھر کے باہر کے ماحول یا مخصوص لوگوں پر ڈال کر زمانے سے نظریں بچاتے نظر آتے ہیں جب کہ اس کے ذمہ دار وہ خود ہوتے ہیں۔تمام لوگ بلخصوص والدین پولیس کی کارکردی پر سوالیہ نشان اٹھانے والے پولیس کیساتھ ساتھ اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائیں تاکہ مستقبل میں کسی ایسی پریشانی کا سامنا نا ہو۔

آمنہ علی الپیال صحافی اور بلاگر ہیں ۔

Twitter @AmnaAliAlpiyal