ڈیلی میل آن لائن کے خلاف شہباز شریف کے ہتک عزت کے مقدمے میں عدالت سے باہر مصالحت میں ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد اب فیصلہ عدالت کرئے گی۔۔

فائل فوٹو: شہباز شریف

ڈیلی میل نے صحافی ڈیوڈ روز کی خبر پر جس میں شہباز شریف پر 2005 کے زلزلہ زدگان کے فنڈ میں خورد برد کاالزام عائد کیا گیا تھا، اب تک اس پر کوئی تبصرہ شائع نہیں کیاہے لیکن ڈیوڈ روز نے ٹوئٹر پر اپنی خبر کا دفاع کیاہے۔ شہباز شریف نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیاہے کہ برطانوی اخبار کے پبلشر نے ہتک عزت کے دعوے سے قبل بھیجے گئے قانونی نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کاکہناہے کہ ڈیلی میل نے گزشتہ ماہ کہاتھا کہ وہ 22اگست یا اس سے قبل ہمارے قانونی نوٹس کا جواب دے گا جب کہ صحافی ڈیوڈ روز نے17 اگست کو ٹوئٹ کیاتھا کہ وہ جلد ہی جواب دیں گے لیکن ہمارے وکلا کو ابھی تک ڈیلی میل کی جانب سے ان کے دفاع میں میرے خلاف کوئی موثر جواب نہیں ملا۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل نے کہاتھا کہ مجھے جلد از جلد جواب ملے گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ جواب کب ملے گا۔ ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے وکلا یہی نہیں بتاسکے کہ انھیں اس خبر کے کس حصے پر اختلاف ہے جبکہ شہباز شریف کے وکلا کی ٹیم کا کہناہے کہ ڈیلی میل نے پہلے خط میں مزید وقت طلب کرنے کے بعد کوئی جواب نہیں دیا۔

برطانوی صحافی ڈیوڈ روز

ڈیلی میل نے الزام عاید کیاتھا کہ شہباز شریف اور ان کی فیملی نے پاکستان کو زلزلہ زدگان کی امداد اور تعمیر نو اتھارٹی کو دی جانے والی برطانوی ٹیکس دہندگان سے حاصل کی گئی رقم سے دی گئی امداد چرائی تھی، یہ اتھارٹی 2005 میں پاکستان کے زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے قائم کی گئی تھی۔ ڈی ایف آئی ڈی نے میل آن سنڈے کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ اس رقم کو خورد برد کیاگیا اور شہباز شریف اور ان کی فیملی نے اس کی لانڈرنگ کی۔ ڈی ایف آئی ڈی نے اس تاثر کی تردید کی تھی کہ برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کی زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے دی جانے والی رقم چرائی گئی تھی۔ اب چونکہ دونوں فریقین کے درمیان مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، جسکا مطلب ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے اخبار کے خلاف دائر کئے جانے والے ہتک عزت کے دعوے کا فیصلہ اب عدالت میں ہی ہوگا۔