سانحہ ساہیوال کےمتاثرہ خاندان کے وکیل شہبازبخاری کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی پنجاب سےجان کوخطرہ ہے!جان سےمارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،کیس سے پیچھے ہٹنے کوکہا جارہا ہے، وزیراعظم ایک اور سانحے سے پہلے ایکشن لے لیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال میں مقتولین کےورثاکےوکیل سیدشہبازبخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سی ٹی ڈی پنجاب سےجان کوخطرہ ہے مقتول خلیل کے بھائی جلیل اور مجھے جان سےمارنےکی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہمیں اپنی جان کی پرواہ نہیں صر ف انصاف چاہیے۔

“ہمیں اپنی جان کی پرواہ نہیں صر ف انصاف چاہیے”

وکیل شہبازبخاری کا کہنا تھا کہ گریڈ20کےسی ٹی ڈی افسر نے دھمکیاں دیں جس کی ریکارڈنگ ہے، ریکارڈنگ جےآئی ٹی کو دے کر ملنے والی دھمکیوں سےآگاہ کر دیا ، جےآئی ٹی کیاکارروائی کررہی ہے اس سےہمیں آگاہ نہیں کیا جارہا۔

سانحہ ساہیوال میں مقتولین کےورثاکےوکیل نے کہا ملزموں کوجوڈیشل کر دیا گیا، گواہوں کے بیانات قلمبندہورہےہیں، وزیراعظم عمران خان ورثاکے تحفظات سنیں، ایک اور سانحے سے پہلےایکشن لے لیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے پیٹی بندبھائیوں کو بچانے کے لئے دھمکیاں دی جارہی ہیں، سی ٹی ڈی اس پورے معاملے کو سبوتاژ کرناچاہتی ہے۔

یاد رہے گذشتہ روزسانحہ ساہیوال کے نامزد 6 ملزمان کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

واضح رہے 19 جنوری کو ہونے والے سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں 13 سالہ بچی کو ماں سمیت 4 معصوم شہریوں کو انتہائی بیدردی اور سفاکانہ طریقے سے گولیوں سے چھلنی کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

سانحہ ساہیوال کی ایف آر درج کرلی گئی تھی، ایف آئی آر میں سی ٹی ڈی کے نامعلوم سولہ اہلکاروں کونامزد کیا گیا تھا، تھانہ یوسف والا میں درج مقدمہ نمبر 33/2019 کا مدعی مقتول خلیل کا بھائی جلیل ہے۔

بعد ازاں ساہیوال واقعے پروزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو تحقیقات کرکے واقعے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا اور محکمہ داخلہ پنجاب نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی تھی۔

جی آئی ٹی نے خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا تھا جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا