چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو کو معاملے میں کیوں ملوث کیا؟ کس کے کہنے پر بلاول کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، بلاول معصوم نے پاکستان میں آکر ایسا کیا کردیا، بلاول صرف اپنی ماں کا مشن آگے بڑھا رہا ہے، جہاں جہاں بلاول بھٹو زرداری کا نام ہے اس حصے کو حذف کیا جائے،بلاول اور فاروق ایچ نائیک کے حوالے سے جے آئی ٹی سے جواب لیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت بہت بڑی رحمت ہے، الیکشن سے قبل لوگ کہتے تھے کہ الیکشن نہیں ہونگے،  شکرہے الیکشن ہوگئے، ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف لے رکھا ہے، ہم کسی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، یہ عوام سے ہماری کمٹمنٹ ہے کہ آئین کا دفاع کریں گے، سیاسی اسکورنگ کے لیے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا، صرف ڈائریکٹر بن جانے سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ بلاول کسی اسکینڈل میں شامل ہوگیا،جائیداد کو منجمد کر دیتے ہیں لیکن اس بنیاد پر بلاول کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکتا، مراد علی شاہ کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے، دیکھ تو لیتے کہ مراد علی شاہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالیں۔

سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا کہ سارے معاملے کی ازسرِ نو تفتیش کرے اور 2 ماہ میں تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے، تفتیش کے بعد اگر کوئی کیس بنتا ہے تو بنایا جائے۔ جے آئی ٹی اس کیس پر اپنے طور پر کام کرتی رہے اور کوئی چیز سامنے آتی ہے تو نیب کو فراہم کرے،