سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کے ہمراہ بیان حلفی ضروری قراردے دیا اور حکم دیا کہ تمام امیدوار تین روزمیں بیان حلفی جمع کرانے کے پابند ہوں گے، الیکشن کمیشن بیان حلفی اورمتن تیار کریں گے۔ کاغذات نامزدگی وہی رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے کاغذات نامزدگی فارم کی سابقہ شقوں کی بحالی سے متعلق کیس
کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایازصادق کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کی اپیلیں قابل سماعت ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی لوگوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے میں شرما کیوں رہے ہیں،بچوں کے اور اپنے غیرملکی اثاثے، بینک اکاؤنٹ و دیگر تفصیلات بتانے میں کیا حرج ہے، ہم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرکے وقتی ریلیف دیا۔ امیدوار اضافی حلف نامہ جمع کروا دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اضافی تفصیلات 10روز میں ریٹرننگ افسرکوجمع کرادیں، کاغذات نامزدگی میں تبدیلی والے بھی عدالت میں بیٹھے ہیں، عوام کو انتخاب لڑنے والے کی تفصیلات معلوم ہونی چاہیے، اسپیکرکیوں چاہتےہیں یہ تفصیلات مخفی رکھی جائیں، ہم آپ کی درخواست خارج کردیتےہیں۔

اسپیکرقومی اسمبلی کے وکیل شاہد حامد نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا ، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ حوالےکی ضرورت نہیں پورے شہر کو پتہ ہے، اثاثوں کی تفصیلات پیش کرنےمیں شرم کیوں ہے، وفاق کہاں ہے،7 ماہ سےحکومت نے معاملہ لٹکائے رکھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی تفصیلات چھپائی جائیں یہ آئینی معاملہ ہے، جس پرشاہدحامد نے کہا کہ اسپیکر کو ذاتی طور پر تفصیلات دینے میں پریشانی نہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ اسپیکرکس قانون کے تحت معاملے کو چیلنج کرسکتےہیں، آرٹیکل 218 سےالیکشن کمیشن کو اختیار ملتا ہے، آپ الیکشن کمیشن کےاختیارکوکیوں کم کرارہے ہیں، الیکشن کمیشن نے آگے انتخابات بھی کرانے ہیں، ن لیگ کی نہیں اسپیکرکی نمائندگی کررہاہوں، اسپیکرکا انتخاب بھی تومسلم لیگ ن نےکرایا ہے۔

چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ اسپیکرکاکاغذات نامزدگی کی تبدیلی سےمفادمتاثرنہیں ہورہا ، تفصیلات چھپا کرشہریوں کو کیوں محروم رکھا جاتا ہے،  پہلے ہائیکورٹ فیصلےکیخلاف انٹراکورٹ اپیل کرنی چاہیے تھی، قابل سماعت نہ ہونے کا فیصلہ دیا تو درخواست خارج ہوسکتی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےاختیارات میں مداخلت کی جارہی ہے، اب بھی ہم چاہتےہیں نیا فارم ہی چلے، جو معلومات ختم کی گئی انہیں بیان حلفی کے ذریعے لیا جائے اور یہ بیان حلفی 10دن کےاندراندر جمع کرایا جائے۔

اسپیکرقومی اسمبلی کے وکیل شاہدحامد نے کہا کہ آپ کی عدالتی آبزرویشن سے منتیں بنیں گی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماری آبزرویشن کی توخبر بننی چاہیے، جن لوگوں نے چالاکیاں کرکے قانون بنایا ہمیں سب پتہ ہے، چالاکیاں کرکے قانون بنانے والے عدالت میں موجود ہیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ خود کو کیوں چھپانا چاہتے ہیں؟ عوام کوامیدوارکی امانتداری، دیانتداری کا علم ہونا چاہیے، امیدوار کی تمام تفصیلات کا علم ہونے میں کیا نقصان ہے؟ ہمیں بتائیں ایاز صادق کیا تفصیلات چھپانا چاہتے ہیں؟

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ جمعہ جمعہ8 دن ہوئےقانون میں 2مرتبہ تبدیلی ہوچکی،جس پر شاہد حامد نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کاغذات نامزدگی سے متعلق قانون کا اختیار رکھتا ہے، دہری شہریت والے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معلومات بیان حلفی کی صورت میں کمشنرسے تصدیق کرائیں، جہانگیرترین کا سارا مقدمہ ہی زرعی ٹیکس سے متعلق تھا، آپے کھادا، آپے پیتا، آپے واہ واہ کیتا، ایسے نہیں چلے گا ہم نے قوم کو بچانا ہے کسی شخصیت کو نہیں، ہم الگ سے ایک بینچ تشکیل دیں گے، عملدرآمد بینچ جائزہ لے گا الیکشن کیسے کرانے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بڑے جلسوں میں کروڑوں روپےخرچ کیےجاتےہیں، بینرکتنے سائز کا ہوگا اس معاملے کو ہم دیکھیں گے، ہمیں انتخابات میں بالکل صاف ستھرے لوگ چاہئیں، شفافیت اور درست معلومات فراہمی کیلئے بیان حلفی مانگیں گے، غلط معلومات دی گئیں توتوہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

سپریم کورٹ نے امیدواروں کے لیے بیان حلفی ضروری قراردے دیا اور کہا کہ تمام امیدوار3روزمیں بیان حلفی جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو بیان حلفی اور متن تیار کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ بیان حلفی تیارہونےکےبعدتمام امیدواراسےجمع کرائیں گے، کاغذات نامزدگی وہی رہیں گے، ہوسکتا ہے بیان حلفی کی وجہ سے اسکروٹنی کی تاریخ بڑھانا پڑے، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 3دن بعد ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کمیشن اورعدالت کے معاون وکیل بیان حلفی کا نمونہ تیارکریں گے، نمونہ بیان حلفی آج ہی سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا، آج ہی جمع کرانے والا نمونہ بیان حلفی عدالتی حکم کا حصہ ہوگا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تصور کیا جائے گایہ بیان حلفی سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، کسی بھی مرحلے پر بیان حلفی کے منافی حقائق آئے تو ایکشن ہوگا، منافی حقائق پر سپریم کورٹ براہ راست ایکشن لے سکے گی، ایسے امیدوارکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی، بیان حلفی کاغذات نامزدگی کے علاوہ 3دن میں جمع کرانا ہوگا اور اس کام کے لئے الیکشن شیڈول متاثر نہیں کیا جائے گا۔