سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جسٹس مقبول باقر نے فیصلے کے آخر میں حبیب جالب کے شعر کا حوالہ بھی دیا۔

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو

87صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا،جسٹس مقبول باقر نے حبیب جالب کے شعر”ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو“کا حوالہ دیا۔

 

تحریری فیصلے میں کہاگیا ہے کہ پاکستان طویل جدوجہد کے بعد آزاد جمہوری ریاست کیلئے حاصل کیاگیا، ہماری نجات آزادی اظہار رائے میں ہے، جب تک ہم جمہوری اقدار کا کلچر پیدا نہیں کرتے امن کا قیام خواب ہی رہے گا،جب تک ہم جمہوریت اور آزاری کی قدر نہیں کرتے اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل نہیں کرسکتے۔

 

کہتے ہیں کہ روحانی عوامی اور انقلابی نظریے کبھی مرتے نہیں ہیں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں-حبیب جالب عوامی انقلابی نظریاتی شاعر تھے- وہ ساری عمر ظلم ناانصافی استحصال غربت اور جہالت کے خلاف جدوجہد کرتے رہے- اپنے جمہوری،   آزادی رائے اور انقلابی نظریات کی وجہ سے انہیں کم و بیش ہر حکمران کے دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں-

حبیب جالب مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں ساری دنیا میں جہاں بھی ظلم ہوتا ہے وہاں پر حبیب جالب کو یاد کیا جاتا ہے  برصغیر پاک و ہند میں جہاں جہاں انکلی شاعری کو پڑھا اور سمجھاجاتا ہےتو انکی شاعری کو وقت حاضر کے درپیش حالات کے ساتھ منسوب کر لیا جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کےآج کے  فیصلہ میں حبیب جالب کی شاعری کا سہارا لینا ایک اہم سوال اُٹھا رہا ہے۔

جبیب جالب کی مکمل نظم – ظلم رہے اور امن بھی ہو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو

ہنستی گاتی، روشن وادی

تاریکی میں ڈوب گئی

بیتے دن کی لاش پہ اے دل

میں روتا ہوں توں بھی رو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

ہر دھڑکن پہ خوف کے پہرے

ہر آنسو پر پابندی

یہ جیون بھی کیا جیون ہے

آگ لگے اس جیون کو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

اپنے ہونٹ سیئے ہیں تم نے

میری زباں کو مت روکو

تم کو اگر توفیق نہیں تو

مجھ کو ہی سچ کہنے دو

ظلم رہے اور امن بھی ہو