سمال ڈیم کی نااہلی راولپنڈی کی عوام ہسپتال کی ویسٹج ملا پانی پینے پر مجبور ہوچکی ہے۔گزشتہ کی سالوں سے راول ڈیم کی صفائی نہیں کی گئی

راول ڈیم کا پانی خون کے نمونے کی بوتلوں , زائدالمیعادادویات, سرنجوں اور ڈرپ کی بوتلوں سے زہر آلودہ

راول ڈیم میں ڈپلومیٹک انکلیو کی سیورج لائن ٹوٹنے کی وجہ سے سیورج کا پانی بھی ڈیم میں شامل ہو رہا ہے

راول ڈیم میں بری امام اور ملحقہ آبادی کی سیورج کا پانی بھی شامل ہو رہا ہے۔ راول ڈیم میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظرآرہے ہیں۔

سیلابی پانی میں بہہ کر آنے والے مردہ جانوروں سے مزید گندگی اور تعفن پھیل رہا ہے۔ اس سے پہلے نواز شریف دور حکومت میں بھی زہرآلود مواد کی وجہ سے لوکل انتظامیہ نے وقتی طور پر اقدامات اٹھائے تھے لیکن پھر کسی نے کویٰ توجہ نہیں دی

دوسرئ جانب سرکاری محکوموں کے دباو میں آ کر واسا اور دیگر پانی کے ٹیسٹ کرنے والے اداروں سب اچھا کی رپورٹ پیش کرتے ہیں موجودہ صورت حال میں سمال ڈیم صرف سپل وے کی سیکیورٹی انجام دینے میں مصروف ہے

سپل وے کے اردگرد لگائی گئی لوہے کے جنگلے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ سمال ڈیم کے اعلی افسران سب اچھا کی رپورٹ پیش کررہے ہیں

سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سا بارہا انتظامیہ کو ڈیم کی حساسیت کا عندیا دیاگیا لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نا ہوئی

پورے ڈیم کی سیکیورٹی سمال ڈیم کی زمہ داری ہے لیکن راول ڈیم کی سیکیورٹی کی غرض سے بنائی گئی گارڈز کی چیک پوسٹ پر قبضہ مافیا کا قبضہ ہے اس وقت راول ڈیم میں سمال ڈیم کا تقریبا350 افراد پر مشتمل عملہ تعینات ہے اور پھر بھی
سمال ڈیم کی اعلی افسر کاسٹاف کی کمی کا رونا رو رہا ہے

سمال ڈیم کی کالونی میں غیرقانونی تعمیر کیئے گئے مکانات پر سرعام کنڈے لگائے گئے ہیں جس کے باعث

آئیسکو کو کروڑوں کی بجلی چوری ہو رہئ ہے

سمال ڈیم انتظامیہ کی نااہلی کے باعث راولپنڈی کے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرات ہیں راولپنڈی کے شہری ہیپیٹائٹس بی, سی اور پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس, وزیر اعظم پاکستان اور وزیراعلی سمال ڈیم کی نااہلی کا نوٹس لیں اور
نااہل سمال ڈیم انتظامیہ کے خلاف انکوائری کی جائے

راولپنڈی کو سپلائی کیئے جانے والا پانی بدبودار اور تعفن ذدہ ہے اداروں کی رپورٹس کیسے درست آتی ہیں,
زہر آلود پانی پلانے والوں کا تعین کر کے زمہ اداروں کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے