سعدیہ خان اسکی کپ
تحریر: کنول زہرا
وطن کی فضاؤں کے محافظ، پاکستان فضائیہ کے شائین ملک سیاحت اور خواتین میں کھیلوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں، جس کے تحت پاک فضائیہ ہر سال موسم سرما میں گلگلت، بلتستان کے دل نذیر مقامات میں واقع برف پوش پہاڑوں پر دیگر کھیلوں کے ساتھ سعدیہ خان اسکی کپ کا انعقاد کراتی ہے، جس میں ملک بھر کی خواتین جو اسٹینگ میں وہ بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہیں،


یہ ٹورنامنٹ ملک بھر سے خواتین اسکیئرز کو اپنی جسمانی اور ذہنی استعداد کو بروئے کار لانے کے لئے منعقد کیا جا تا ہے۔ ان مقابلوں سے نہ صرف خواتین میں اس کھیل کی دلچسپی پیدا ہوتی ہے بلکہ نئے آنے والے ٹیلنٹ کو بھی بھر پور مواقع میسر آتے ہیں، اسی تناظر میں ہر سال کی طرح دسمبر 2019 میں بھی وادی نلتر میں سعدیہ خان اسکی کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کے مقابلے کامیابی سے تین روز تک جاری رہے. اسکیٹنگ کے دلدادوں کی کثیر تعداد نے اس تین روز ایونٹ میں اپنی شرکت یقینی بنائی اور مقابلوں سے لطف اندوز ہوئے،ان مقابلوں میں ملک بھر سے اسکیئرز کی شوقین و ماہر خواتین نے بھر پور حصہ لیا۔ خواتین کھلاڑیوں نے برف سے ڈھکی خطرناک ڈھلوانوں پر منجمد کر دینے والی سردی میں اپنے کھیل کاپرجوش مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ نے خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ کے لئے اس ریزورٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانے کے لئے ہر سہولت فراہم کی۔


وادی نلتر کی خون جما دینے والی سردی میں تین روز تک سعدیہ خان اسکی کپ کا میلہ 28 دسمبر کو اختیام پذیر ہوا،
اس تین روزہ اسکی کے میلے میں عمائمہ ولی نے پہلی جبکہ جیا علی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
اس ایونٹ کو ایک نوجوان اسکیئر سعدیہ خان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جو24سال کی عمر میں ایک کار حادثے میں وفات پا گئیں تھیں۔
سعدیہ خان کون تھیں؟
سعدیہ خان سابق بریگیڈیر محمد اکرم کی صاحبزادی تھیں، وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میں غیر معمولی کارکردگی کی وجہ سے بہترین طالب علم مقرر ہوئیں، جہاں سے انہوں نے ٹکنالوجی مینجمنٹ میں ایم بی اے مکمل کیا۔ بعد ازاں انہیں بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔1985 میں سعدیہ خان کو اسکیٹنگ میں دلچسپی ہوئی، انہیں نے اس کھیل میں مہارت حاصل کی اور آسٹریا میں پاکستان فضائیہ کی نمائندگی کرتے ہو ئے دوسری پوزیشن حاصل کی.
فروری 2002 میں نیشنل اسکی چیمپیئنشپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر اسکی فیڈریشن آف پاکستان نے گولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
1991 میں ، سعدیہ نے واٹر اسکیئنگ میں حصہ لیا اور سالانہ ٹیلنٹ ایوارڈ اپنے نام کرکے پاکستان کی پہلی خاتون اسکیئر بن گئی۔ کبھی نہ ہارنے والی سعدیہ خان 24 برس کی عمر میں 13 اپریل 2002 کو ایک روڈ حادثے میں زندگی ہار گئیں. سعدیہ خان کے کارنامہ پاکستانی خواتین کے لئے مثالی ہیں.
پاکستان فضائیہ سعدیہ خان کی خدمات کے تحت ہر سال انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے،سعدیہ خان اسکی کپ کا انعقاد کرتی ہے،جس میں خواتین کو بھرپور موقع اور راہ نمائی دی جاتی ہے.