دفتر خارجہ میں “ٹک ٹاکیاں”

 تحریر ذکیہ نئیر
“دیوانہ کر رہا ہے تیرا روپ سنہرا”انڈین فلم راز کے اس گانے پر جھوم جھوم کہ ایک ماڈل دفتر خارجہ کے اس کمرے میں جا گھسی جہاں قومی سلامتی کے راز زیر بحث آتے ہیں جہاں جانا آسان نہیں شناخت کی جانچ پڑتال کے بعد باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے مگر حریم شاہ نہ صرف وہاں گئی بلکہ ویڈیو بھی ” بنوائی ” اور جس کرسی پر کمیٹی کے اجلاس کا صدر بیٹھتا ہے وہاں بھی دیدہ دلیری سے بیٹھی جھومتی رہی۔۔۔اس سارے واقعے نے حکومت کے لیے کئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں جان بچانے کے لیے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ۔۔۔ حریم نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی نے نہیں روکا وہ وزیر خارجہ سے ملنے آئیں انہیں شاہ محمود قریشی سے ملنے کا شوق تھا عام عوام سوچ رہی ہے کہ کیا یہ اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی عام شہری وزیر سے ملنے دفتر خارجہ پہنچ جائے پھر سیدھا کمیٹی روم جاکے وزیراعظم کی کرسی پہ بیٹھ کہ ویڈیو ریکارڈ کروائے تو جناب سوچیے بھی نہیں بنا کسی “اعلیٰ حکام” کی مرضی اور کلیئرنس کہ آپ یہ کوشش کر ہیی نہیں سکتے….

اگر ایسا کرنے کی ضد کی تو وہ حال ہوگا جو ڈی سی چارسدہ کی کرسی پر بیٹھنے والے کا ہوا تھا۔۔۔وزارت خارجہ کی عمارت ہو یا وزیراعظم کی کرسی ایک تقدس ہے جس کا مذاق بھی بنا اور دوسروں کو خود بھی ہنسنے کہ موقع دیا گیا کہ دیکھیے یہ ہے لیول ہماری سیکیورٹی کا اور یہ ہے ہمارے اداروں کی تعظیم۔۔۔حکومتی انکوائری کا حکم بھی عجیب مضحکہ خیز سا ہے جب دفتر خارجہ کی عمارت میں جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں تو وہیں سے جان کاری لے لیجے کہ کون صاحب انہیں لے کہ اندر گئے پھر انکا موبائل لیکے ویڈیو بھی بناتے رہے خود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا مگر لگتا ہے حکومت بھی یہ راز راز ہی رکھنا چاہتی ہے ہوسکتا ہے ذمہ داران کا نام لینا کلہاڑی پہ پاؤں رکھنے کے مترادف ہو ادھر حریم بھی ڈٹی ہوئی ہے کہ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے اندر کی کہانی نہیں بتائے گی خیر خبریں تو یہ بھی ہیں کہ یہی ٹک ٹاک گرل بنی گالہ میں بھی مٹر گشت کرتی رہی جب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے شیخ رشید ،فیاض الحسن چوہان اور خود عمران خان کے ساتھ تصاویر دیکھ کہ لگتا ہے کہ حریم کو ٹک ٹاک صرف موجودہ حکومتی جماعت سے ہی کرنی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اسکی اگلی ویڈیو کی لوکیشن کیا ہوگی پی ایم ہاؤس ایوان صدر یا کسی اور وزارت کی اہم عمارت؟