چیف جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسسز کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ غریبوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے، دفتروں میں بیٹھ کر بونگیاں مت ماریں, نئی حکمت عملی بنائی جائے۔

 سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے اوگرا، پی ایس او ودیگر حکام کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسسز کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے پی ایس او، اوگرا، ایف بی آر اور وفاقی حکومت سے 10 روز میں جواب طلب کرلیا کہ بتایا جائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیسے ممکن ہو سکتی ہے جبکہ اوگرا, پی ایس او ودیگر اداروں کے سربراہان کی تقرری کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا بتایا جائے ان اداروں کے سربراہان کی قابلیت کیا ہے۔

چیف جسٹس عدالت نے پیٹرولیم مصنوعات کے ڈیلرز کو دیے جانے والے کمیشن کی تفصیلات بھی طلب کر لیں اور ریمارکس دیئے کہ غریبوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے, چیف جسٹس دفتروں میں بیٹھ کر بونگیاں مت ماریں, نئی حکمت عملی بنائی جائے۔

ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات پی ایس اوسمیت22کمپنیاں خرید رہی ہیں، مشترکہ اجلاس میں ہر کمپنی 3ماہ کی ڈیمانڈ رکھتی ہے، عالمی مارکیٹ کی قیمت کے تناسب سے اوسط قیمت رکھی جاتی ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں، آپ کے ریکارڈ کی ماہرین سے تصدیق کرائیں گے، لوگ بلک گئے،ہر ماہ قیمتیں اوپرنیچے کر  دیتے ہیں، اگررپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپس کھول لیے۔