نامور صحافی ارشد شریف نے وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی طرف سے بھیجے گئے آموں کے تحفے کو شکریہ کے ساتھ واپس ارسال کردیا اور کہا کہ یہ میرے وطن کے غرباء میں تقسیم کردئیے جائیں۔ ترجمان وزیرِ اعلٰی پنجاب ڈاکٹر شہباز گِل نے اس بات کا بہت بُرا منایا۔

سینئر صحافی، اینکر پرسن ارشد شریف

اِس ضمن میں جناب ارشد شریف نے 10 سوالات پوچھے ہیں۔ سوالات کا درست جواب دینے پر انہوں نے ایک لاکھ روپے انعام رکھا ہے۔ سوالات کا جواب 1 ستمبر 2019 تک دیا جاسکتا ہے۔

ایک سے زیادہ درست جوابات کی صورت میں انعام برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اگر حکومتِ پنجاب اگر ان سوالات کا درست جواب دے تو انعام کی رقم کسی بھی تجویز کردہ مخیر ادارے کے کھاتے میں جمع کروا دی جائے گی۔

سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

آم وزیرِ اعلٰی پنجاب کے کس فارم سے ہیں؟ فارم کا نام اور ملکیتی کاغذات دکھائے جائیں

 اگر نہیں تو تو یہ آم کون لایا اور کس قیمت پر؟

 اگر آموں کی قیمت کی ادائیگی ذاتی طور پر کی گئی ہے تو آموں کی ترسیل، 23 اگست 2019، سے پہلے کسی بنک اکاؤنٹ سے ادائیگی کا ثبوت ارسال کیا جائے۔

 اگر تیسرے سوال کا جواب ندارد ہے تو جس بھی شخص نے آموں کی قیمت ادا کی ہے اس کا نام ظاہر کیا جائے۔

 آموں کی پیکنگ اور ترسیل کیلئے سرکاری ذرائع کا استعمال کس حیثیت سے اور کیوں کیا گیا؟ کون کونسی کاریں اور لوگ اس زمہ داری کو نبھانے کیلئے استعمال کئے گئے؟ کاروں کا کرایہ اور ملازمین کو اجرت کہاں سے ادا کی گئی؟

 کون کونسے سرکاری ملازمین کو پنجاب بھر میں اس زمہ داری سے نبرد آزما ہونے کے لئے استعمال کیا گیا؟

 رواں سال اگست میں آموں کے تحفے وصول کرنے والے پاکستانی اشرافیہ، کابینہ ارکان، سول اور ملٹری بیوروکریٹس، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں اور صحافیوں کی مکمل فہرست جاری کی جائے۔

 کیا ملک کے ایک مخصوص طبقے کو آموں کی ترسیل وزیرِ اعظم عمران خان کے ریاستِ مدینہ کے اصولوں اور خاکے کے عین مطابق ہے؟

 حکومتِ پنجاب کو ایک پیغام منسلکہ تصاویر کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔

 کیا پنجاب میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے باسیوں کی تعداد بتائی جا سکتی ہے؟