خدیجہ صدیقی حملہ کیس میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے  ملزم کوگرفتارکرنے کا حکم دے دیا اور 5 سال  قیدکی سزا کافیصلہ برقرار  رکھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم ریکارڈکےمطابق فیصلہ کریں گے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی قاتلانہ حملہ کیس کی سماعت کی ، خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملے کے ملزم شاہ حسین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا۔

چیف جسٹس آصف سعید نے استفسار کیا کیاملزم شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجودہے، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل میں کہا ہائی کورٹ نے مقدمہ کےمکمل شواہدکونہیں دیکھا، خدیجہ صدیقی کی بہن بھی بطورگواہ پیش ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا دیکھناچاہتے ہیں ہائی کورٹ کا نتیجہ شواہدکے مطابق ہے۔

خدیجہ صدیقی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کی کلاس فیلوتھی، ملزم شاہ حسین نےخدیجہ پرخنجرکے23وارکیے،خدیجہ کی گردن پربھی 2وارکیے، ڈاکٹرز کے مطابق جب خدیجہ کواسپتال لایاگیاخون بہہ رہاتھا۔

چیف جسٹس کھوسہ نے ریمارکس میں کہا خدیجہ صدیقی ملزم کوجانتی تھی وہ کلاس فیلوبھی تھے، اس کےباوجودملزم کو5 دن کےبعدنامزدکیاگیا، جس پر وکیل خدیجہ صدیقی نے بتایا حملے کے وقت خدیجہ صدیقی حواس میں نہیں تھی، خدیجہ نےڈاکٹرکوبھی اجنبی قراردیاتھا، شاہ حسین نےارادےکےساتھ صرف خدیجہ پرخنجرسےحملےکیے، شاہ حسین نے کار کے ڈرائیور پر حملہ نہیں کیا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا خدیجہ کی بہن حملے کے وقت حواس میں تھی، ملزم کو تاخیر سے مقدمےمیں نامزدکیوں کیاگیا، خدیجہ کی بہن نے بھی ملزم کی نشاندہی میں تاخیر کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا خدیجہ کو لگے ہوئے زخم کتنےگہرے ہیں تو وکیل خدیجہ نے بتایا 12زخم 2 سینٹی میٹرز کے تھے، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا خدیجہ کی گردن کے اگلے حصے پر کوئی زخم نہیں تھا، خدیجہ معاملے پر بول سکتی تھی۔

وکیل نے مزید بتایا کہ خدیجہ حملےکےبعدحواس میں نہیں تھی ، ڈاکٹرز کے مطابق خدیجہ کی حالت خطرے میں تھی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بات طے ہے اسپتال میں خدیجہ بات کررہی تھی، ڈاکٹرز خدیجہ سے سوال کررہے تھے تو سرجن نے انہیں باہر نکال دیا، خدیجہ نے ڈاکٹرز کو بتایاکہ حملہ آور لڑکاہے۔

خدیجہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ خدیجہ کی حالت کے پیش نظر تفتیشی افسر بیان ریکارڈ نہیں کرسکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا خدیجہ صدیقی نے پہلے دن ملزم کانام نہیں بتایا، خدیجہ نے ملزم کا نام 5 دن بعد بتایا۔

دوران سماعت چیف جسٹس  نے استفسار کیا  گاڑی سے2بال ملے تھے کیا ان کا ڈی این اے ہوا، جس پر خدیجہ صدیقی کے وکیل نے بتایا   بالوں کو فرانزک لیب بھجوانے کا کہاگیا تھا، فرانزک لیب کے بقول انہیں بال موصول نہیں ہوئے۔

جسٹس آصف سعید نے کہا  خطے کی بہترین اور دنیاکی دوسری بہترین فرانزک لیب لاہور میں ہے، پنجاب فرانزک لیب پر ہمیں فخر ہوناچاہیے، فرانزک لیب میں دنیا کے ماہر ترین افراد موجود ہیں، کیس میں ہائی پروفائل کا لفظ کئی مرتبہ استعمال ہوا۔

چیف جسٹس نےاستفسار کیا کیا ہائی پروفائل کیلئےقانون بدل جاتاہے، جرم جرم ہوتاہےہائی پروفائل ہویالوپروفائل ہو، جس پروکیل خدیجہ صدیقی نے  بتایا   ہائی کورٹ نے شواہدکا درست جائزہ نہیں لیا، جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے مزید استفسار کیا  ملزم آخرخدیجہ کوکیوں مارناچاہتاتھا، ملزم چاہتا تو خدیجہ کو ایسی جگہ مارسکتاتھاجہاں کوئی نہ ہوتا۔

خدیجہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ  ریکارڈ پر ایسی کوئی بات نہیں اقدام قتل کی وجہ کیاہے، جس پر چیف  جسٹس نے کہا  گولی مارنا آسان لیکن خنجر مارنا شدید اشتعال پر ہوتاہے، عام طور پر قتل کی وجہ ہوتی ہے میری نہیں تو کسی کی نہیں، دوسری عمومی وجہ لڑکی کی طرف سے بلیک میلنگ ہوتی ہے، خدیجہ کے کیس میں دونوں وجوہات سامنےنہیں آئی

جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریمارکس میں کہا کسی کلاس فیلو نے کیس میں گواہی نہیں دی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  اصل سوال یہ ہےکہ خدیجہ پرحملہ کس نے کیا، خدیجہ اور شاہ حسین کے درمیان تعلقات مقدمے سے 7ماہ پہلے ختم ہوگئے تھے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا تعلقات ختم ہونےکےبعدبھی دونوں ایک کلاس میں رہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے  ایک سال اکٹھے قانون پڑھ کر عملی تجربےکاسوچا۔

پنجاب کےپراسیکیوٹر نے خدیجہ کے وکیل کے تمام دلائل اپنالیے اور  ملزم شاہ حسین کی سزاختم کرنے کی مخالفت کردی۔

سپریم کورٹ نے  طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کیس میں  ہائی کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو گرفتار کرنےکا حکم دے دیا  اور ملزم کی 5سال قید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔

لزم شاہ حسین نے عدالت میں کہا بہن صوفیہ صدیقی مجھےاچھی طرح جانتی ہے،  اس نےکہاایک اجنبی نےحملہ کیا، خدیجہ صدیقی مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی، میں اس کے ساتھ نہیں رہناچاہتاتھا۔

چیف جسٹس نے ملزم سےمکالمہ میں کہا  ایساممکن ہےتم نےکوئی قاتل کرائےپرلیاہو، میں نےشادی کاپرپوزل مستردکیا۔

عد ازاں ملزم شاہ حسین نے مجسٹریٹ کورٹ سے سنائی جانے والی سزا کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، شاہ حسین کی درخواست پرسیشن کورٹ نے مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے دی گئی 7 سال کی سزا کم کرکے 5 سال کردی تھی، جبکہ خدیجہ صدیقی کیس کے ملزم شاہ حسین کو لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا