خدارا، جینے دو کراچی کو
تحریر:کنول زہرا
سب جانتے ہیں کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے. میٹروپولیٹن سٹی ہونے کی وجہ سے پاکستان، دنیا بھر میں کراچی کی جگمگاہٹ سے ہی روشناس ہوتا ہے. اسی لئے پاکستان مخالف کراچی کو اپنے ناپاک عزائم کے تحت استعمال کرتے رہے ہیں. آج بھی کراچی والوں کے ذہین کشت و خون کے مناظرفراموش نہیں کرسکے ہیں. معاشی حب کی ابتر صورتحال کو دیکھ کر اس وقت کی حکومت نے کراچی آپریشن کے نام سے رینجرز کے ذریعے سے قیام امن کی بحالی کا فیصلہ کیا. اس طرح ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن کا آغاز ہوا.جس کا خیرمقدم اس وقت کی شہر کی سب سے بڑ ی جماعت ایم کیوایم نے کیا. یہ جماعت اپنے اندر کی صفائی کی مشتاق تھی مگر خود کاروائی سے ڈر رہی تھی کہ کہیں الٹی آنتیں گلے نہ پڑجا ئیں لہذا اپنے عزائم کی تکمیل کی خاطر رینجرز کی بندوق کا سہارا لیا. غالبا سوچ میں
1992 کی منظر کشی تھی. اب یہ حالات کی ستم ظریفی تھی یا اللہ کی پکڑ کہ جناب
1992 کے بانسبت 2013 میں میڈیا بہت متحرک ہوچکا تھا اس لئے کوئی بھی بات چھپانا ممکن نہیں تھی.خبر کا آگ کی طرح پھیلنا کراچی کی شہریت کے ساتھ امن دشمنوں کے لئے بھی نقصان دھ ثابت ہوا جس کا مکمل عکاس 22 اگست 2016
کا دن ہے. جس نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا. بہرحال 22 اگست سے قبل ہی کراچی میں امن بحال ہونا شروع ہوگیا تھا مگر بائیس اگست 2016 کا دن کراچی کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب اس شہر میں خاموش انقلاب آیا. ایم کیو ایم کے قائد،اپنی زندگی میں ہی بانی ایم کیو ایم بن گئے.عزیزآباد میں واقع ایک گھر کو تالا لگ گیا اور مکا چوک، لیاقت علی خان چوک بن گیا. کراچی پر سے لندن کی حکمرانی ختم ہوئی اور خوف کا راج تاراج ہوا. کراچی والوں نے 30 سال بعد اپنی زندگی جینے کا آغاز کیا.اب اللہ کے فضل و کرم سے یہاں ہفتے بھر کی ہڑتال سمیت کشت و خون کو بھی مات مل گئی ہے اور زندگی خمیہ زن ہونا شروع ہوئی ہے مگر گذشتہ سال
2018 کے آخری ماہ میں ایک بار پھر کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کیں گئی اور پے در پے ناخوشگوار واقعات پیش آئے
چھ ہفتوں میں چھ دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔ سولہ نومبر کو قائد آباد میں افسوناک واقعہ پیش آیا جس میں دو افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے. اس کے بعد چینی قونصل خانے پر حملہ، ایم کیو ایم کی محفل میلاد پر حملہ، ڈیفنس میں کار بم دھماکہ، پاک سر زمین پارٹی کے دو کارکنان کا قتل اور علی رضا عابدی کے قتل جیسے واقعات نے شہر کے امن کو متاثر کیا. جس کی وجہ سے کراچی آپریشن پر انگلیاں اٹھی بعد ازاں صورتحال پر قابو پالیا گیا.رواں سال 25 فروری کو سندھ رینجرز نے بڑی کاروائی کرتے ہوئے ذرا ئع ابلاغ کو تفصیلی پریس ریلیز کے ذریعے سے آگاہ کیا کہ
دسمبر2018 ؁ء سے لے کر فروری2019 ؁ء تک کراچی میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا مقصد نہ صرف کراچی کے امن کو تباہ کرنا تھا بلکہ شہر کا مسلسل بہتر ہوتا ہوا سیاسی ، معاشی اور ثقافتی منظر بھی خراب کرنا تھا۔ ان واقعات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
مورخہ 9دسمبر2018 ؁ء کو گلستان جوہر میں ایم کیو ایم پاکستان کی منعقدکردہ محفل میلاد میں IEDبلاسٹ
ہواجس میں7کارکنان زخمی ہوئے۔ محفل میلاد میں موجود ایم کیو ایم پاکستان کی تمام لیڈر شپ محفوظ رہی۔
۔ مورخہ23دسمبر2018 ء کو PSPکے UC-50Bکے ٹاؤن آفس پر فائرنگ ہوئی جس میں PSP
عہدیداراظہر عرف سیاں اور نعیم عرف ملاں کوقتل کیا گیا جبکہ PSPکارکن یاسر اور فہداس واقعے میں زخمی ہوئے۔
۔ مورخہ11فروری 2019 ؁ء کو ایم کیو ایم پاکستان کے UCآفس سیکٹر 11D نیو کراچی میں فائرنگ ہوئی
جس میں ایم کیو ایم پاکستان کا ایک کارکن شکیل انصاری قتل جبکہ اعظم زخمی ہو گیاتھا۔
ان واقعات کیFIRsمتعلقہ تھانوں میں درج ہیں۔اسی تناظر میں پاکستان رینجرز( سندھ )کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ ان وارداتوں میں ملوث ملزمان تک پہنچا جا سکے ۔انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ان دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث8ملزمان کوپاکستان رینجرز (سندھ) نے گرفتار کر لیا ہے ۔یہ تمام ملزمان ایم کیو ایم لندن سے وابستہ ہیں اور سلیم بیلجیم کی ماضی قریب میں تیار کردہ ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا حصہ ہیں ۔ سلیم بیلجیم کا اصل نام محمد سلیم عرف سلیم بیلجیم عرف جنرل عرف کمانڈر اِن چیف ہے ۔ سلیم بیلجیم سیکٹر 7/D-2 نارتھ کراچی کا رہائشی ہے جو کہ ٹارگٹ کلنگ کی درجنوں وارداتوں جن میں پولیس اہلکاروں اور پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن پر حملے میں شامل ہے ۔ سلیم بیلجیم کو 2011 میں رینجرز نے گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا تھا ۔ بعد ازاں کیسز کی پیروی کے دوران ملزم بیرون ملک چلا گیا اور لندن ، بیلجیم اور ساؤتھ افریقہ میں ایم کیو ایم لندن کے
شر پسند عناصر کی پشت پناہی اور سرپرستی کرتا ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ ٹیم کے گرفتار شدہ ممبران کے نام درج زیل ہیں :۔
۱۔ رحمان احمد عرف شاہ رخ عرف حاجی( جو کہ شاہ فیصل کالونی کا رہائشی ہے )۔
۲۔ سید رضاعلی عرف سولجر(یو پی مور کا رہائشی ہے)۔
۳۔ محسن علی عرف شاہ جی ( سرجانی کا رہائشی ہے )۔
۴۔ قاضی انیس الرحمن عرف قادری عرف کیپٹن ( لیاری کا رہائشی ہے )۔
۵۔ تنظیم عرف سمارٹ بوائے ( لیاقت آباد کا رہائشی ہے )۔
۶۔ ضمیر الدین عرف شہزاد گولڈ
۷۔ سید وقاص حیدر
۸۔ شہریار عرف شیری( سرجانی کا رہائشی ہے )۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق ان ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان ٹارگٹ کلرز کو سلیم بیلجیم الطاف حسین کی ہدایات پر لندن سے کنٹرول کر رہا ہے ۔ ٹارگٹ کلرز کی اس ٹیم کا کراچی میں سرغنہ آصف پاشا عرف میجرہے جو کہ ابھی تک مفرور ہے۔ آصف پاشا عرف میجر ماضی میں ایم کیو ایم ڈیفنس کلفٹن سیکٹر کا انچارج رہا ہے۔آصف پاشا عرف میجر نے سلیم بیلجیم اور الطاف حسین کی ہدایات پر یہ ٹارگٹ کلنگ ٹیم تشکیل دی ۔انٹیلی جنس معلومات کے مطابق آصف پاشا عرف میجر نے نومبر 2018 میں سلیم بیلجیم سے دبئی میں ملاقات بھی کی۔ آصف پاشا عرف میجر اس ٹارگٹ کلنگ ٹیم کے ہمراہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی ان کاروائیوں کے دوران سلیم بیلجیم کے ساتھ واٹس ایپ کالز پر رابطے میں تھا اور وقتاً فوقتاً انٹر نیٹ ڈیوائسز کے ذریعے میسجز اوراحکامات وصول کرتا تھا ۔ باہمی رابطے کیلئے یہ ملزمان موبائل سم کا استعمال نہیں کرتے تھے جس سے ان کو پکڑے جانے کا اندیشہ تھا لہذا یہ تمام ملزمان آپس میں رابطے کیلئے انٹرنیٹ ایپلی کیشنز باشمول واٹس ایپ کا استعمال کرتے تھے جس میں زیادہ تر نمبر UK کے ہوتے تھے۔

ملزمان نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ان مجرمانہ کاروائیوں کیلئے سلیم بیلجیم کی طرف سے احکامات ہر ملزم کو علیحدہ اور گروپ کی شکل میں بھی موصول ہوتے تھے جس کا مقصد ان دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا ۔ ابتدائی تفتیش سے یہ واضح ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ ٹیم کی سر پرستی سلیم بیلجیم الطاف حسین کے احکامات پر کر رہا تھا ۔ سلیم بیلجیم اور ٹارگٹ کلنگ ٹیم کے ممبرز کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ کالز میں یہ واضح ہے کہ ان گرفتار ملزمان کا تعلق ایم کیوایم لند ن سے ہے اور وائس میسیجز میں واضح طور پر موجود ہے کہ الطاف حسین اور سلیم بیلجیم کی سرپرستی میں یہ کارروائیاں کراچی میں کی جا رہیں تھی ۔ان وائس میسیجز میں یہ واضح طور پر سُنا جا سکتا ہے کہ ایم کیوایم لندن اور سیلم بیلجیم نے ان گرفتار ملزمان کی اونرشپ قبول کی ہے اور یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ ان گرفتار ملزمان کا تعلق ایم کیوایم لند ن سے ہے۔
سلیم بیلجیم ایم کیو ایم لندن سیکریٹریٹ کی ہدایات پرکراچی میں موجود ٹارگٹ کلرز کو اسلحہ ، ایمونیشن اورمالی معاونت مہیاکر رہا ہے تاکہ ایم کیو ایم (لندن) مخالف قوتوں کو ٹارگٹ کیا جا سکے ۔ اس سلسلے میں اس کام کی تکمیل کیلئے سلیم بیلجیئم نے نامعلوم افراد کے مختلف موبائل نمبرزآصف پاشا عرف میجر کو فراہم کیے تھے جِن کے ذریعے IEDاور ٹارگٹ کلنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار ٹارگٹ کلرز تک پہنچائے جا سکیں۔جبکہ مالی معاونت اور رقم کی ترسیل کیلئے سلیم بیلجیئم نے مختلف مواقع پر نامعلوم افراد اور خواتین کی مدد سے رقم پہنچائی ۔ ان ملزمان کی گفتگو زیادہ تر کوڈ ورڈز میں ہوا کرتی تھی مثال کے طور پر IEDکیلئے ڈبہ ، گرینیڈ کیلئے آلو اور پسٹل کیلئے کیسٹ کا کوڈ استعمال کیا جاتا تھا ۔پریس ریلیز کے ساتھ منسلک آڈیو وائس میسج میں واضح طور پر ان کوڈ ورڈزاور اسلحے کا ذکر موجودہے۔
گرفتارملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن سیکریٹریٹ کی ہدایت پر سلیم عرف بیلجیم نے کراچی میں2018 ؁ٗ ؁ء میں ٹارگٹ کلنگ کی کاروائیوں کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ ایم کیو ایم لندن مخالف تنظیموں کی لیڈر شپ اور کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات کیے جائیں جس کا مقصد کراچی کے امن کو نقصان پہنچانا تھا ۔گذشتہ چند ماہ میں رونما ہونے والے واقعات اسی سلسلے کی کڑی تھے ۔
ملزمان نے انکشاف کیا کہ 9/8دسمبر2018 ؁ء کی درمیانی شب کو گلستان جوہر میں منعقدہ ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد کیلئے IEDکی تیاری آصف پاشا عرف میجر اور رحمٰن احمد عرف شاہ رخ نے گلستان جوہر میں واقع قاسم پیراڈائز اپارٹمنٹ

میں کی جسے بعد ازاں رضا علی عرف سولجر اور جنید عرف اویس نےIEDکو شاپنگ بیگ میں رکھ کر محفل میلاد کی تقریب کی جگہ کے ساتھ فٹ پاتھ کے ساتھ رکھ دیا ۔IEDکو آصف پاشا عرف میجر نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیاجس کے نتیجے میں ایم کیو ایم پاکستان کے 7کارکنان زخمی ہو ئے۔ اسی قسم کی ایک اور آئی ای ڈی کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کو نیو کراچی کے علاقے میں ٹارگٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔یہ IED مفرور ملزم آصف پاشا عرف میجر کے گھر سے ریکور کر لی گئی ہے ۔ سندھ رینجرز کی پریس ریلیز کے مطابق
ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 23دسمبر2018 کوپاک سرزمین پارٹی کے گلبہار میں واقع آفس میں اظہر سیاں کی ٹارگٹ کلنگ کی پلاننگ کاشف جمیل عرف زین ، جنید عرف اویس ، رضا علی عرف سولجر، غفران عرف بڑے میاں ، انیس الرحمان عرف قادری عرف کیپٹن اورمحسن علی عرف شاہ جی نے آغا جوس گلبہار میں ایک میٹنگ کی بعد ازاں ا ظہر عرف سیاں کی آفس میں موجودگی کی اطلاع پر5موٹر سائیکلوں اور ایک رکشہ پر جائے وقوعہ پر پہنچے ۔جنید عرف اویس ،محسن عرف شاہ جی ، رضا علی عر ف سولجر اوراسد عرف عمر نے فائرنگ کر کے اظہر عرف سیاں اور نعیم عرف ملاں کو قتل جبکہ یاسر اور فہد کو زخمی کر دیا اس کامیاب کاروائی پر سلیم بیلجئم نے آصف پاشا عرف میجر کو الطاف حسین کی طرف سے مبارکباد بھی دی ۔
11فروری2019 کو سکیٹر الیون ڈی میں واقع ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن شکیل انصاری جان بحق جبکہ اعظم زخمی ہوا تھا ۔اس کاروائی کیلئے آصف پاشا عرف میجر اور رضا علی عرف سولجر نے ریکی کی بعد ازاں چار ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر جائے وقوعہ پر پہنچے ۔ سجاد چوہدری نے کلاشنکوف اور جنید عرف اویس نے 9ایم ایم سے فائرنگ کی تھی جبکہ نعیم عرف علی 9ایم ایم سے فائرنہ کر سکا۔
دوران تفتیش ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شکیل انصاری کے قتل کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے14فروری2019 کو کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔آصف پاشا عرف میجر اور رحمٰن احمد عرف شاہ رخ عرف حاجی نے اس موقع پر ہینڈ گرینیڈ یا IEDسے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایاتھا مگر رینجرز اور پولیس کی جانب سے سخت سیکورٹی کے پیش نظر یہ ارادہ ملتوی کر دیاگیا ۔اس کارروائی کے لیے ملزما ن کے درمیان ہو نے والی واٹس ایپ میسج پریس ریلیز کے ساتھ مُنسلک ہے ۔
23 دسمبر 2018 کو پی ایس پی دفتر اور 11 فروری 2019 کو ایم کیوایم پاکستان کے دفتر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی دونوں وارداتوں میں استعمال ہونے والے اسلحے( 1 عدد 9 ایم ایم پسٹل اور 1 عدد kk ) کو ملزم رضا علی کے گھر سے بر آمد کیا جا چکا ہے ۔بر آمد ہونے والے اِس اسلحے کی فرانزک رپورٹ کے مطابق یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ اسلحہ ان وارداتوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ 1 عدد 9 ایم ایم پسٹل مفرور آصف پاشا عرف میجر کے گھر سے برآمد کیاگیا ہے جبکہ مزید ایک عدد30بور پسٹل اور ایک عدد .25بور پین پسٹل رضا علی کے گھر سے برآمد کیے گئے ہیں۔
گرفتار ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی ظاہر کیے ہیں جوایم کیو ایم لندن سیکریٹریٹ سے براہ راست رابطے میں ہیں اور ان کے احکامات پر متحدہ مخالف پارٹیوں اور افراد کے خلاف منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ ان شریک مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے آپریشن کیے جارہے ہیں۔
ان تمام ٹارگٹ کلرز کی ہٹ لسٹ پر مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان اور PSPکے پولیٹیکل ورکرز ، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، PSPکی لیڈرشپ اور ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے ممبران بھی شامل ہیں۔گرفتار شدہ ملزمان کی ٹارگٹ لسٹ میں ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اسامہ قادری ، ایم پی اے وسیم قریشی اور ایم پی اے باسط شامل ہیں ۔دیگر ٹارگٹ لسٹ میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ممبران عامر خان اور امین الحق بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ایس پی سے تعلق رکھنے والے اظہر لمبا بھی ان گرفتار شدہ ملزمان کی ٹارگٹ لسٹ میں شامل ہیں ۔
واضح رہے کہ بانی ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی حالیہ تقاریر میں بھی اس بات کو متعدد بار دہرایا گیا کہ ایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہونے والے لیڈران اور ممبران کو نشانہ بنایا جائے ۔ سندھ رینجرز نے کاروائیوں کی بدولت اب کراچی میں کوئی بھی نوگو ایریاز موجود نہیں ہیں. جس کی وجہ سے ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کرنے والے ملزمان جلد ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ پریس ریلیز کے مندرجات کے مطابق گرفتار شدہ ملزمان سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ان ٹارگٹ کلرز کو سلیم بیلجیم اور بانی ایم کیو ایم کی بھر پور سرپرستی حاصل رہی ہے. جس کا اظہار ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کی پریس ریلیز جو کہ 24فروری 2019کو سوشل میڈیا پر 23فروری 2019 کی تاریخ کے ساتھ جاری کی گئی جس کا مقصد گمراہ کرنا تھا۔ ملزمان کے پاس سے ملنے والے سیل فونز میں ملنے والے آیڈیو پیغامات اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم لندن آج بھی کراچی کا امن تباہ کرنے کی مکمل کوشش میں ہے.
رواں ماہ کی چھ کو پاکستان رینجرز کی جانب سے جاری کردہ ایک اور پریس ریلیز کے مطابق
پاکستان رینجرز(سندھ) اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیا د پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایم کیوایم لندن کے سلیم بیلجیم کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کے ایک اور ملزم غفران احمدکو گرفتار کیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے۔
پاکستان رینجرز (سندھ) کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے تمام امن دشمن عناصر پرنظر رکھے ہوئے ہیں. انشا اللہ، کراچی کے امن کو برقرار رکھنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ترجمان پاکستان رینجرز سندھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان امن دشمن عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں اور ایسے عناصر کی اطلاع رینجرز ہیلپ لائن 1101، واٹس ایپ یا سادے ٹیکسٹ کے ذریعے اس نمبر0316-
2369996۔ پر فوری دے. آگاہی دینے والے کا نام ضیغہ راز میں رکھا جائیگا.
سلیم بیلجم کے نیٹ ورک کی ٹوٹ پھوٹ شہرقائد کے امن کے لئے سود مند ہے جبکہ اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے مکمل خاموشی معنی خیز ہے. کراچی کے امن کے خاطر اس سلسلے میں ان کی رائے اہم ہے.اللہ کا شکر ہے کہ کراچی میں ہونے والے پاکستان سپرلیگ کے میچز سے قبل دہشت گردوں کو منہ کی کھانی پڑی. شاباش پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس کے جوانوں..