اےآر وائی کے پروگرام پاور پلے میں سینئر صحافی ارشد شریف نے آواز اٹھائی ان لوگوں کی جو اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پے در با در دھکے کھا رہے ہے

ارشد شریف نے پروگرام میں کچھ سوالات اٹھائے کہ :

“حکومت کے پاس کیا اتنے پیسے بھی نہیں کہ لوگوں کو تنخواہیں  دیں سکے ، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دیں سکے ؟

کیا ہمارے وزرا صرف اسی کام کے لیے رہ گئے ہیں جیسے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ایک نا اہل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے نیب عدالت میں تو موجود ہو لیکن جو لوگ احتجاج کر رہے ہے انکی داد رسی کے لیے بھی نہ پہنچھیں ایسے میں اگر لوگ چیف جسٹس صاحب سے فریاد نہیں کریں گے تو کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے ؟

چاہے وہ لیڈی ہیلتھ ورکر ہو لاہور میں یا اسلام آباد میں پمز  کے ڈاکٹر ہو یا اساتذہ ہو .”

جب کہ آج بھی لاہور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا جاری ہے ایک طرف خواتین جو کہ دھرنے میں شریک ہے گرمی سے بدحال ہے تو دوسری جانب راستے بند ہونے سے شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے

لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا تھا کہ جب تک انکے مطالبات  پورے نہیں کئیے جاتے اس وقت تک یہ احتجاج ختم نہیں کریں گے کیوں کہ انکو جولائی 2017 سے تنخوائیں ادا نہیں کی گیں

انکے مطالبات اور اب بیتی جانیے اس وڈیو میں

کچھ فریادیں چیف جسٹس صاحب تک بھی پہنچی ہیں ، چیف جسٹس کا پمز اہسپتال میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ممکنہ  بندش کا از خود نوٹس کے کیس کی سماعت کی تفصیلات جانیے اس وڈیو میں