تحریر : انصر فیاض

آج کے دن 25 جولائ کو انصاف کی حکومت کے دو سال مکمل ہوۓ۔ کیا ان دو سالوں میں موجودہ حکومت کو کوئ کامیابی ملی کہ نہیں یہ ایک سنجیدہ سوال ہے شاید اسکا جواب کوئ بھی حکومتی رہنما نہیں دے سکتا کیونکہ موجودہ حکومت میں ایک عجیب سا ایک مخمصہ ہے کوئ بھی سنجیدہ  نہیں۔

دو سالوں کے بعد وزیراعظم عمران خان کو معلوم ہوا کہ اس کی اصل طاقت تو اسکی پارٹی کے ممبران ہیں۔ تو اس نے ان سے ملاقاتیں شروع کر دی یہ سب اس وقت شروع ہوا جب اسلام آباد میں مائنس ون کی افواہ زد عام تھی۔

سب کچھ ایک طرف لیکن کیا موجودہ حکومت اپنے ان دو سالوں میں عوام کے لیۓ کچھ کر پائ؟ ایسا لگتا ہے کچھ بھی نہیں سواۓ بگاڑ کے کچھ نہیں ہوا اسکی ایک بنیادی وجہ ناکام اور نااہل وزیروں اور مشیروں کی ایک فوج ہے ۔سواۓ چند ایک سب نالائق ہی ہیں یہ تو وزیراعظم خود کہتے ہیں ۔ اس سے اچنبھے والی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے افراد اس وقت  ملک کی فیصلہ سازی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان تمام فیصلوں سے عوام کو نہیں انکو ذاتی کے مفاد کو فائدہ ضرور ہوتا ہے ۔

ملک میں پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کر کے راتوں رات پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اربوں روپے بنا لیۓ گۓ اور عوام کو مہنگائ کی چکی میں پیس دیا گیا۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت میں بے بہا اضافہ ہی ہوا ہے اور رہی سہی کسر کرونا کی وبا نے نکال دی  ہے  شاید اس وقت اقتصادی طور پر ہم اس وقت تاریخ کے ایک بدترین دہانے پر کھڑے ہیں۔

پچھلے دو سالوں میں حکومت نے صرف حکومت کرنی سیکھی ہے اور شاید وہ بھی پوری طرح سے نہیں ہر آنے والا دن انکی ناکامی کی ایک نئ نوید سناتا ہے۔

اس دو سالہ دور حکومت میں انصاف کی حکومت کوئ انصاف تو  نہ کر سکی  اور نہ ہی  اپنا کیا ایک بھی وعدہ پوراکیا۔آج بھی  سانحہ ماڈل ٹاؤن  اور کئ اور اہم واقعات کے ورثا انصاف کے منتظر ہیں کہ شاید ان سے کیا گیا وعدہ وفا ہو جاۓ لیکن لگتا ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ حکومت میں آنے کے عمران خان کی ترجیحات تبدیل ہو گئ ہیں۔

حکومت نے غریب لوگوں کو گھر دینے کی بجاۓ بے گھر ضرور کیا ہے۔ نوکریاں دینے کی بجاۓ لوگوں سے نوکریاں چھینی ضرور ہیں اسکی بنیادی وجہ انکی اپنی فیصلہ سازی ہے کسی کو کیا دوش ادینا۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے صوبہ پنجاب کی صورت حال انتہائ تشویش ناک ہے جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا۔پولیس کی پرانی روش برکار ہے۔ کوئ پوچھنے والا ہی نہیں۔ پولیس ریفارم کا خواب ابھی تک تو شاید ادھورا ہی نہیں بلکہ ناممکن پورا ہوتا نظر آتا ہے آج بھی پولیس کی ناقص تفتیش سے  بے گناہ کو سزا جبکہ عادی مجرم کو رشوت کے عوض رعایت مل جاتی ہے اور اسکی بہترین مثال اس وقت روالپنڈی کے اندر ہونے والے کئ واقعات ہیں جن میں ایک پولیس ٹیسٹ کیس بھی تھا جس میں پولیس نے ایک دفعہ پھر روایتی تفتیش کا مظاہرہ کیا۔

صدف زہرا قتل کیس کا رخ بھی ایسے ہی موڑ دیا گیا اور قتل کی بجاۓ اسے خودکشی کی طرف لے جا کر کھڑا کیا ۔  ایک عادی مجرم کو جس نے کئ معصوم لڑکیوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اور جب اسکی اپنی بیوی اس کے راستے کی روکاؤٹ بنی تو اس کانٹے کو بھی نکال باہر کیا اور اپنے چند بلیک میلنگ مافیا ساتھیوں کے ساتھ ملکر اس تفتیش کا رخ موڑنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ کیا اسی وقت کے لئے صدف اور اسکے خاندان نے اس حکومت کو ووٹ دیا تھا۔ شاید نہیں انہوں نے تو انصاف کے بول بالا کے لئے ووٹ دیا تھا انکو کیا پتہ تھا کہ اسکا صلہ یہ ملے گا۔

اس طرح کے کئ واقعات ہیں اور روزانہ ایک نئ کہانی سننے کو ملتی ہے لیکن اسکا حل آج تک کوئ نہیں ہو سکا شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے موجودہ حکومت بھی آج و سال مکمل ہونے پر پچھلی حکومتوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے وہی طرز حکمرانی اور وہی چالبازیاں لیکن عوام نے اور کچھ مقتدر حلقوں نے آپ کو اس کے لئے تو نہیں چنا تھا؟

 ایک ہی سوال ہے آج ہر پاکستانی کا اس وقت کے حکمرانوں سے کہ کیا مدینہ کی ریاست ایسی تھی کیا اور کیا یہ تھا اسلامی طرز حکومت ؟ ۔  ” اگر دریا فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اسکے کے لئے بھی میں جوابدہ ھوں ” یہ الفاظ تھےحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو ایک مدینہ کی ریاست کے حکمران تھے تو کیا آج بھی ہے جو کہے ۔