جھنگ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ حکومت جون میں مدت پوری کرے گی اور اگست میں الیکشن ہوں گے۔

________________________________________________________________________________

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جھنگ میں ایل این جی پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور وزیر مملکت عابد شیر علی بھی شریک تھے۔

جھنگ پاور پلانٹ چین اور پنجاب حکومت کے اشتراک سے لگایا جارہا ہے، اس منصوبے کی تکمیل سے 26 ماہ میں 1263 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی اور 14 ماہ میں 810 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔

ایل این جی پاور پلانٹ تریموں بیراج کے قریب بنایا جارہا ہے، جب کہ پاور پلانٹ پر اخراجات کا تخمینہ 80 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

________________________________________________________________________________

وزیراعظم کا خطاب

جھنگ میں ایل این جی پاور پلانٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 14 ماہ میں اس منصوبے سے بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے، وزیراعلیٰ پنجاب نہ ہوتے تو بجلی کے منصوبے جلد مکمل نہ ہوپاتے، بڑے بڑے ٹیکنوکریٹس سورما 10 سال میں منصوبے پورا نہ کرسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت جون میں مدت پوری کرے گی، اگست میں الیکشن ہوں گے، فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے، پاکستان کی عوام ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر سرخرو کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نظر آرہا ہے ہمارے مخالفین الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، آج کل الائنس بن رہے ہیں، زیرو جمع زیرو، زیرو ہی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے کرائے پر بجلی گھر منگوائے جسے لگانے میں 30 ماہ لگے، انہوں نے ملک کو 80 ارب کا مقروض کردیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن بجلی چوری والے علاقوں میں صرف لوڈ شیڈنگ نظر آئے گی کیوں کہ چوروں کو بجلی مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پر کام شروع ہوچکا ہے، یہ این آر او سے آئی حکومت کے دور میں نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پیپلزپارٹی کے دورمیں بھی ہوسکتا تھا لیکن سی پیک (ن) لیگ کے دور میں اس لیے آیا کہ اس کوعوام کا اعتماد حاصل تھا۔

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت جو بھی صوبوں کو ملنا تھا انہیں اس سے بڑھ کر دیا ہے۔

________________________________________________________________________________

Reporters Dairy