شہر قائد میں نیپرا حکام اور حکومتی دعوؤں کے باوجود 12 سے 14 گھنٹوں کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس کو اور سوئی سدرن کے الیکٹرک کو ٹھہرا رہی ہے۔

 

کراچی میں فالٹس اور نافاکی سپلائی کے نام پر 14 سے 15 گھنٹے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسل جاری ہے، لیاقت آباد ،گلشن اقبال ،گلستان جوہر ،ملیر، صفورا گوٹھ، نارتھ کراچی، ایف بی ایریا، کے ڈی اے، پی ای سی ایچ ایس سمیت کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی فراہمی معطل ہے، جب کہ بجلی کی بندش کے باعث جہاں شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہیں، جب کہ اسپتالوں، درسگاہوں اور دیگر جگاہیں بھی متاثر ہو رہی ہیں

 اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دے دیا ہے، جب کہ شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ پر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے جواب بھی طلب کرلیا