” *حکومتی بل بتوڑے”*
محترم حسن نثار صاحب کو کہتے سنا تھا کہ “عمران خان خود بہت سمجھدار انسان ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پر عزم ہے مگر اسکے آس پاس بل بتوڑے جمع ہیں جو اسے کامیابی سے ملک نہیں چلانے دیں گے ” اکثر سوچتی تھی بل بتوڑوں سے مراد کون ہیں اور وہ عمران خان کے راستے کے کیونکر کانٹے بن سکتے ہیں تو اب مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جیسے انتہائی نازک اور قومی سلامتی کے مسئلے پر جناب وزیراعظم کی ٹیم نے نا اہلی کا وہ تاریخی مظاہرہ کیا کہ عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل نے بھی حکومت کا دفاع کرتے کرتے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا جناب عمران خان کے وزیروں مشیروں نے اس ایک سال کے دوران وہ وہ “کارہائے نمایاں”سر انجام دئیے کہ خودحکمران کو ہزیمت اٹھانی پڑی ابھی کچھ دن پہلے ہی دو وزیروں نے عدالتوں کے خلاف دئیے گئے بیانات پر معافی مانگی۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اور مشیر خزانہ کے خوابوں میں ٹماٹر 17 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں فروس عاشق اعوان حفیظ شیخ سے بھی دو قدم آگے ہیں فرماتی ہیں مٹر تو پانچ روپے کلو ہیں۔ جبکہ زرتاج گل کے مطابق عوام کو خود سبزی اگانی چاہیے۔۔شہریار آفریدی نے اپنی ایک تقریر میں وفاقی دارلحکومت کی 70 فیصد بچیوں کو منشیات کا عادی قرار دیا۔۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کی بھی سنیے ایسا بیان دیا کہ احتساب کے سارے عمل پر پانی پھیر دیا فرماتے ہیں “احتساب ہم کر رہے ہیں نیب نہیں”اس بیان سے نہ صرف نیب کا تشخص مجروع ہوا بلکہ فرائض اور محنت سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کے کام کی بھی نفی ہوئی ہے۔۔ ادھر وزیر اعلی پنجاب کی خاموشی نے پورے پنجاب کی ترقی کو ہی بریکیں لگائی ہوئی ہیں سوجھ بوجھ ایسی کہ سانحہ ساہیوال میں یتیم مسکین ہونے والے بچوں کے لیے پھولوں کے گلدستے لے گیئے۔یہ تو چند مثالیں ہیں مگر عمران خان کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ایک سال میں اتنی نالائقیاں اکھٹی ہوجایئں تو اچھی بھلی مظبوط حکومت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے یہ تو اتحادیوں کے سہارے کھڑی ایسی حکومت ہے جسے باہر سے تو کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا مگر اندرونی نا اہلیوں،جلد بازیوں اور غیر سنجیدہ رویوں سے ضرور دھچکا لگنے کے چانسسز موجود ہیں۔۔کیونکہ بل بتوڑوں کی فوج آس پاس اب بھی موجود ہے۔

ذکیہ نئیر صحافی اور بلاگر ہیں ۔