سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں وکیل نیشنل بینک نے بتایا کہ کیس میں اصل پارٹی اسٹیٹ بینک ہے، اسٹیٹ بینک ریگولرٹی ہے،بینکوں نے قرض معاف کیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کہاں ہے ، کوئی اندازہ ہے کہ کتنے ارب معاف ہوئے؟ جس پر نیشنل بینک کے وکیل نے بتایا چون ارب معاف ہوئے، کمیشن کاکہنا ہے قصہ ماضی ہے ، بینک پیسے کی واپسی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ مقدمات پرانے ہوگئے اسی لیے کھول رہا ہوں، سیاسی بنیادوں پرمعاف قرضوں کی تفصیلات کہاں ہیں، 22مشکوک مقدمات ہیں ، نیشنل بینک نےٹیکسٹائل ملوں کےبہت زیادہ رقوم کےقرض معاف کیے، جب سے یہ رپورٹ آئی ہے اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیر التوا ہے ، ہمیں رپورٹ اور اس کی سفارشات درکارہیں، جنھوں نےسیاسی بنیادوں پرقرض معاف کرائے ان سےوصول کرتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کمیشن رپورٹ کیا ہے ذمہ داری کس پرڈالی ،سمری عدالت کو فراہم کی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں نے قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے، اگر رقم نہیں تواثاثے فروخت کر کے رقم وصول کریں گے، جسٹس جمشید سےبات کرتاہوں، لگتا ہے صرف عبوری رپورٹ آئی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔