جنرل اسد درانی اور سولین بالادستی کا معاملہ

طاہر ملک


آج کل جنرل اسد درانی قومی مفاد قومی راز اور سولین بالادستی کا غلغلہ ھے جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف نا اھل ہوئے ہیں وہ ووٹ کو عزت دینے اور سولین بالادستی کے بیانیے کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ بالادست اور آزاد خودمختار ادارہ ھوتا ھے آئین اور قانون کی بالادستی اور حکمرانی مضبوط ریاست کا لازمی جزو ہیں طاقتور ادارے آئین اور پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتے ھیں حق حکمرانی صرف عوام کے پاس ہوتا ھے ۔ لیکن اس جمہوریت کے لئے عوام نے چار سو سال جدوجہد کی سیاسی مفکرین نے فکری پسماندگی اور فکری بد عنوانی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے عوام کی آزادی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق سے اپنی غیر متزلزل وابستگی رکھی ۔ اور سیاسی راھنما وں نے بھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے جمہوری اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا آنے والے کل اور آنے والی نسلوں کے لئے قربانی دی اور یوں جمہوریت مستحکم ہوئی ۔ پاکستان میں ہر سابق وزیراعظم سولین بالادستی کا راگ الاپتے ھیں لیکن ان کی کھوکھلی تقریر اور نعرے ان کے عمل اور کردار سے مسابقت نہیں رکھتے ان دنوں جنرل اسد درانی کی کتاب کا معاملہ زیر بحث ھے کئی روز کی حکومتی خاموشی کے بعد جی ایچ کیو نے آج جنرل اسد درانی کو طلب کیا انکوائری آرڈر کی اور اب شنید ھے کہ ان نام ای سی ایل میں ڈالا جا رھا ھے
اگر افواج پاکستان کو کہ حکومت کا ایک ماتحت ادارے وہ اس معاملے میں یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو پھر حکومت خاموش کیوں ؟
اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ڈان اخبار کی ممبئی حملوں کے حوالے سے خبر پر قومی سلامتی کمیٹی کے روبرو طلب کیا جا سکتا ھے تو پھر حکومت جنرل اسد درانی کو قومی سلامتی کمیٹی میں طلب کیوں نہیں کر سکتی ۔ کیا حکومت کو اس اھم معاملہ میں انکوائری آرڈر نہیں کرنی چاہیے تھی اور جنرل درانی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالنا چاھئے تھا ۔
چند روز قبل جب نواز شریف نے جنرل درانی کو قومی سلامتی کمیٹی میں طلب کرنے کے بیان کے بعد ان کی حکومت کے وزیر اعظم کو اس ضمن میں عملی پیشرفت نہیں کرنی چاھئے تھی ۔اور جب سینٹ میں پیپلز پارٹی کے سینٹر رضا ربانی نے جنرل اسد درانی کی کتاب کے حوالے سے اھم سوالات اٹھائے تو سولین بالادستی پر یقین رکھنے والی مسلم لیگ ن کے نظریاتی سینٹر نے چپ سادھی رکھی اور اس پر تبصرہ کرنا ھی مناسب نہ سمجھا ن لیگ کے قائد ایوان راجہ ظفر الحق زیر لب مسکراتے رھے ۔ہاکستان میں سولین بالادستی اس روز قائم ہو گی جب ھمارے سیاسی راھنما وں کے قول و فعل میں تضاد ختم ہوگا اور وہ اپنے چھوٹے موٹے فروغی سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر آنے والی نسلوں کا سوچیں گے

طاہر ملک