عدلیہ مخالف تقریر کرنا مسلم لیگی رہنماءدانیال عزیز کو مہنگا پڑگیا۔توہین عدالت کیس میں دانیال عزیزپرجرم ثابت ہوگیا،عدالت کی برخاستگی تک انھیں سزاسنادی گئی۔جسٹس عظمت سعیدکی عدم موجودگی میں جسٹس مشیرعالم نےفیصلہ پڑھ کرسنایا۔

دانیال عزیز پر عمران خان کی بریت کے فیصلے کو اسکرپٹ کے مطابق کہنے، نگران جج پر نیب ریفرنس تیار کرانے اور جسٹس اعجاز الاحسن کے متعلق توہین آمیز تقریر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔​ توہین آمیز تقاریر اور بیانات پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے دانیال عزیز کیخلاف دو فروری کو از خودنوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سات فروری سے تین مئی تک نو سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج بروز28 جون کوسنایاگیا۔ چیف جسٹس نے عدلیہ مخالف تقریر پر 2 فروری کو نوٹس لیا تھا۔ دانیال عزیز پر13 مارچ کوفرد جرم عائد کی گئی تھی،دانیال عزیز نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔ دانیال عزیز پر توہین عدالت کیس کا فیصلہ 3 مئی کو محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے دانیال عزیز کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا تھا۔ دانیال عزیز کی عدم موجودگی کے باعث فیصلہ کچھ دیر کےلیے موخرکیاگیا۔ توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئےگئے۔احاطہ عدالت،انٹری گیٹ پرپولیس کی اضافی نفری تعینات تھی۔ کمرہ عدالت میں بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار تعینات تھے۔ بکتر بند گاڑی بھی سپریم کورٹ کے باہرموجود تھی۔

فیصلےکےبعد میڈیاسے بات کرتے ہوئے دانیال عزیز کاکہناتھاکہ میرے خلاف 3 چارجزتھے۔ یہ چارجزمہینوں پُرانےتھے۔ ان میں پہلا چارج یہ تھاکہ ایک پریس کانفرنس کاگواہ پیش ہواجس نے دوران جرح یہ تسلیم کیاکہ جو لفظ اخبار میں لکھے گئےوہ دانیال عزیز نے کہے ہی نہیں۔ پریس کانفرنس والےالزام سےبری کردیاگیا۔دوسرے چارجز میں ڈان نیوز کی خبرتھی اوراس خبر کی ٹرانسکرپٹ مانگی گئی۔عدالت کی جانب سے اس خبر کی ویڈیو فراہم کی گئی۔

ذرائع نےدعوی کیاہے کہ دانیال عزیز عدالتی سے سزاملنےکی وجہ سے 5سال کےلیے نااہل ہوگئےہیں۔ امکان ہےکہ وہ عام انتخابات میں حصہ لینےکےلیے اہل نہیں ہونگے۔