وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ بھارت کے لیے ابھی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا البتہ وزیراعظم صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

فائل فوٹو: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی عالمی برادری کو 5 اگست کے یکطرفہ اقدام کا جواب دیں، مقبوضہ کشمیر میں 23 ویں روز بھی کرفیو ہے، زندگی اور موت کی کشمکش ہے، کرفیو کی وجہ سے اشیا خورو نوش اور دواؤں کی قلت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر گھر کے سامنے ایک فوجی کھڑا ہے،  پولیس اور بھارتی فورسز میں تصادم کی اطلاعات ہیں، خطے کی صورتحال بھارت خراب کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے لیے ابھی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا، اس حوالے سے سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوگا اور اس پر وزیراعظم تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت سے رابطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نہ ہی بھارتی ہم منصب میں بات کرنے کی جرات ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ شملہ معاہدے کے تحت ہم نے مقبوضہ کشمیر کامسئلہ طے کرنا تھا، اس وقت یکطرفہ غیر قانونی اقدامات سے بھارت فضا خراب کر رہا ہے، عالمی برادری کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق رائے تبدیل ہورہی ہے، سلامتی کونسل کا اجلاس بھارتی مخالفت کے باوجود منعقد ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس اقدام پر اپنی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی حکومت کے دباؤ میں ہے، اس وقت بھارتی سپریم کورٹ کا امتحان ہے۔