ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہمارا پیغام واضح ہے، بری نظر سے دیکھنے کاسوچو بھی نہیں ، بھارت جان لے، پاکستان بدل رہا ہے جنگ ہوئی تو فوجی ردعمل بھی مختلف ہوگا،  قوم کو مایوس نہیں کریں گے ، بھارت پاک فوج کوکوئی بھی سرپرائزنہیں دے سکتا ہم تیار ہیں، مادر وطن کادفاع اپنے خون سے کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل  آصف غفور نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کیلئے بہت سے موضوعات تھے لیکن زیادہ تر بعد پلوامہ حملے اور بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بات ہوگی ،آج صحافیوں کےسوالات زیادہ لیے جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 14 فروری کوپلوامامیں کشمیری نوجوانوں نےسیکیورٹی فورسزکونشانہ بنایا، اکثر ہوتاہے کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو فوری بغیر سوچے، بغیر سمجھے بغیر تحقیقات کے پاکستان پرالزام لگایاجاتاہے، پاکستان نےاس مرتبہ جواب دینے میں تھوڑا وقت  لیا، اس کی بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے تحقیقات کرنا تھا، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے جواب دیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا بنیادی طورپرسائبروارچل رہی ہےجسےہائبرڈواربھی کہاجاتاہے، دشمنوں کا ٹارگٹ ہماری نوجوان نسل ہے، پاک بھارت تعلقات کا ایک تاریخی پس منظرہے، 1965 میں پاکستان ترقی کی راہ پرگامزن تھا،جنگ کے اثرات پڑے، مکتی باہنی کا کردار سامنے ہے، موجودہ بھارتی وزیراعظم اعتراف بھی کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  اصل دہشت گردی تواس وقت کی گئی جب مکتی باہنی کاکردار متعارف کرایاگیا، 1997 سے 1994 تک مشرقی سرحد پر کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، ہم نے ترقی کی طرف دوبارہ سفرشروع کیا، بھارت کی جانب سے سیاچن کی جانب پیش قدمی کی گئی ، 1971 میں بھارت نے طے شدہ سازش کرکے پاکستان کو دولخت کیا اور دنیاکے بلندترین محاذ پر ہمیں مجبوری میں فوج کی تعیناتی کرنا پڑی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا پاکستان نے ایٹمی طاقت سیلف ڈیفنس میں حاصل کی، ایٹمی طاقت حاصل کرکے بھارت کی پاکستان پر بالادستی ختم کی، افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرائی گئی، دہشت گردی کیخلاف کارروائی کے دوران مشرقی سرحد پر صورتحال کشیدہ کی گئی، 2008 میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی پر بھارت دوبارہ مشرقی سرحد پر فوج لے آیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ایٹمی قوت بنے تو بھارت نے ہمارے خلاف غیر روایتی محاذاپنایا، کلبھوشن کی صورت میں واضح ثبوت موجودہیں، 2003  میں ڈی جی ایم اوزہاٹ لائن قائم کی، ایل اوسی پر5جگہ پوائنٹس لگائے۔

انھوں نے مزید کہا پاکستان جب بھی ترقی کی طرف چل پڑتاہے تو بھارت یا کشمیر میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتاہے، ممبئی حملے کے وقت بھی بھارت میں انتخابات ہونے تھے، پٹھان کوٹ کا واقعہ بھی انتخابات کے موقع پر ہوا تھا اڑی حملے کے وقت وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنا تھی۔

پاکستان نےماضی میں غلطیاں کی ہیں ، جن سےسیکھاہے کسی غلطی کی گنجائش نہیں پاکستان آگے بڑھ رہاہے، پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثرجواب دیاگیاہے، وزیراعظم نے بھارت کومذاکرات کی دعوت دی، بھارت ہمیشہ کہتاتھا دہشت گردی پر بات کریں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا پاکستان کی جانب سےواضح کہاگیاہے آئیں دہشت گردی پر بھی بات کرتے ہیں،کل قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، نیشنل ایکشن پلان پر اب تیزی سےعمل کرنےکی ہدایت کی گئی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر بھرپورعملدرآمد کیا جائےگا۔

کشمیری نوجوانوں سے متعلق  انھوں نے کہا  کشمیر کی یوتھ اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ان سے موت کاخوف اترچکا ہے،  جب کسی قوم سےموت کاخوف اتر جائے تو وہ کسی چیز سےنہیں ڈرتی۔