“جیتے ہوئےکا ہارے ہوؤں جیسا استقبال”

تحریر ذکیہ نئیر

یہ کون آیا جو ایسی دھرتی کے لیے سینے پر کامیابی کا میڈل سجا لایا جہاں اب کھیلوں کےمیدان کم کم ہی سجتے ہیں جہاں کھیل کا فروغ اور کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کھوکھلے وعدوں تک محدود ہے جس ملک کا سربراہ خود کامیاب کھلاڑی ہے جسکے اقتدار میں آنے کے بعد کم از کم یہ آسرا تو تھا کہ اب کھیل اور کھلاڑی کو بہترین مقام ملے گا۔۔جہاں ریٹائر ہونے والے کھلاڑی کو بہترین اور یادگار انداز میں خدا حافظ کہا جائے گا کہ اب ان میدانوں میں سبز ہلالی پرچم پھر بلند ہوگا جہاں شفافیت ہوگی،عزت ہوگی مواقع ہونگے اور کھیلوں کا شعبہ ترقی کرے گا۔۔۔۔۔مگر یہ کیا؟ اسلام آباد ائیرپورٹ پر یہ ٹھنڈا استقبال اس کھلاڑی کا کیسے ہوسکتا ہے جس نے دیار غیر میں 62 سیکنڈ میں اپنے حریف کو چت کیا جی ہاں تن تنہا ٹیکسی پکڑ کر گھر کی جانب جاتا باکسر محمد وسیم ہی تو ہے اس پاکستانی نوجوان نے دبئی میں منعقدہ پروفیشنل باؤٹ میں فلپائن کے باکسر کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کرکے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ اپنی جیت کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام کیا۔۔۔مگر شایان شان استقبال تو دور کی بات “بڑوں”کی شاباش کا کوئی ٹوئیٹ بھی نہ آیا۔۔۔۔مگر اسپورٹس مین اسپرٹ ہی تو ہے کہ میڈیا کے اکا دکا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بھی کوئی شکوہ نہ کیا بلکہ اپنی دھرتی کے لیے مزید کا کامیابیاں سمیٹنے کا عہد کیا۔۔۔۔۔جناب وزیراعظم صاحب نوٹس لیجیے گا کہ ان میدانوں میں تکلیف دہ سا لگتا ہے جیتے ہوؤں کو ہارے ہو ؤں جیسا استقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذکیہ نئیر صحافی اور بلاگر ہیں ۔