تحریر کنول زہرا

آپریشن ردالفساد اور جنرل باجوہ کے دو سال

تحریر: کنول زہرا


قیام امن کے لئے پاکستان میں معتدد فوجی آپریشن ہوئے ہیں. یقینا ان کی کامیابی پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے کیونکہ فوج کا کام محدود وقت میں اپنے ٹارگٹ تک پہچنا ہے. پاک فوج نے آپریشن المیزان
2005
سے لیکر آپریشن ردالفساد
2017
تک ناعاقبت اندیش دہشت گردوں کو نشان عبرت بنایا ہے. مجھے یقین ہے کہ کچھ زہنوں میں سوال اٹھ رہا ہوگا کہ اتنے فوجی آپریشنز کے بعد بھی ملک کے حالات انتہائی کشیدہ کیوں رہے ؟ اس کے لئے اتنا کہ فوجی آپریشن وقتی اور فوری حل تو ہیں تاہم قیام امن کی مکمل پائیداری کے لئے مستقل حل حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں. جب تک حکومت بہتر حکمت علمی مرتب کرکے اس پر عمل پیرا نہیں ہوگئی تب کتنے ہی فوجی آپریشن کیوں نہ ہوجائیں اس کا آرام ڈسپرین کی گولی کی طرح تو ہوگا مگر یہ مستقل حل نہیں ہے.
آپریشن ردالفساد
کا آغاز فروری
2017
میں ہوا. یہ آپریشن پاک فوج کے سولہویں سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیر نگرانی تاحال جاری ہے.
اس آپریشن کا مقصد گذشتہ آپریشن ضرب عضب کی فتوحات کو مستحکم کرنا جبکہ دہشتگردی کے بچے کچھے خطرات کا مکمل خاتمہ اور پاکستانی معاشرے کو غیر قانونی اسلحے سے مکمل پاک کرنا ہے. یہ آپریشن اس لہذا سے بھی منفرد ہے کیونکہ 2017 میں حکومت ک جانب سے پہلی بار صوبہ پنجاب میں عسکریت پسندوں اور سلیپر سیلز سے نمٹنے کے لئے آرمی اجازت دی گئی تھی.
اس آ پریشن کو ردالفساد کا نام دینے کی وجہ ؟
پرودگار اپنے کلام بلاغت میں اپنی زمین پر فساد پھلانے والوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جب انہیں انتشاری پسندی سے روکا جا ئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو نیکی کا کام کر رہے ہیں.
قرآن کریم کی آیت کے تناظر میں مملیکت پاکستان کے حالات بھی اسی قسم کے رہے ہیں. یہ سطروں پڑھنے والا واقف ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہی اپنے بھائی کا خون کا پیاسا نظر آیا ہے. جس کی بنیادی وجہ دین اسلام کی اصل تعلیمات کو مسخ کرکے اسلام دشمنی کیساتھ پاکستان دشمنی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا تھے، مگر اللہ کے فضل و کرم سے افواج پاکستان، رینجرز، سیکیورٹی ایجنسیاں اور پولیس کیساتھ پاکستان کے عوام نے دہشتگردوں کے منظم مقاصد کو پاش پاش کردیا.
دی انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کی اگست 2017 کی رپورٹ “ردالفساد کی فتوحات” کے مطابق فروری 2017 میں شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 5 ہزار کے قریب مشترکہ اور 19ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے ۔ جن میں 46 بڑے آپریشن شامل ہیں، جب کے اس دوران 21 ہزار سے زائد مختلف نوعیت کے ہتھیار اور 25 لاکھ سے زائد ایمونیشن تحویل میں لیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی چھ دسمبر 2018 کی پریس کانفرنس کے مطابق رواں سال آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 44 بڑے آپریشنز ہوئے ہیں جبکہ 43 ہزار کومنگ آپریشن ہوئے ہیں. اس دوران 32000 غیر قانونی اسلحہ جبکہ تقریبا پانچ ملین بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے.
آپریشن ردالفساد کی کامیابی
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کے لیے کیے گئے آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک بھر میں عمومی طور پر شدت و انتہا پسندی کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے.
سربراہ پاکستان آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ کے دو سال
جنرل قمر جاوید باجوہ نے انتیس نومبر دوہزار سولہ کو پاک آرمی کی باگ ڈور سنبھالی.
جنرل باجوہ کا پس منظر
جنرل قمر جاوید گیارہ نومبر
1960
کو کراچی میں پیدا ہوئے.
تعلیم:
انہوں نے کینیڈین آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی.
پیشہ وارانہ زندگی:
جنرل قمر باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات رہے.
وہ سب سے بڑی کور ٹین کی کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ انہوں نے اسی کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔
انہیں کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی۔
وہ کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
جنرل قمر کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں۔
وہ ماضی میں انفنٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی کر چکے ہیں.
”باجوہ ڈاکٹرائن“
میڈیا پر باجوہ ڈاکٹرائن کو خاصا محضکہ خیز بنا کر پیش کیا گیا. چند نامی گرامی صحافیوں نے تو اس پر لمبے چوڑے کالم تک لکھ ڈالے. ان کے مطابق باجوہ ڈاکٹرائن
58
ٹوبی کی بحالی اور آٹھویں ترمیم کا خاتمہ ہے.خیر جناب ان صحافی صاحب کی چرب زبانی کا تو کیا کہنا وہ تو اجمل قصاب کو پاکستانی ڈی کلیر بھی کرچکے ہیں جبکہ لاہور میں ان کا آبائی گھر بھی دیکھا چکے ہیں جبکہ چشم فلک کو پتہ ہے وہ نہ صرف ہندوستانی تھا بلکہ اس کا تعلق بھی ہندو دھرم سے ہی تھا.
بہرحال باجوہ ڈاکٹرائن “پر امن پاکستان” ہے.
پاک افغان سرحد بندی
خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منصوب پاک افغان سرحد تقریباً چوبیس سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے. پورس بارڈر کی وجہ سے یہاں سرحد بندی ممکن نہیں تھی. ملک میں بڑھتے ہوئے فسادات اور پاک افغان کشیدگی کی وجہ سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں ہی “بارڈر مینجمنٹ ” کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کا آغاز ہوا جسے موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باوجو نے پایہ تکمیل تک پہچانا اپنا فرض سمجھا.موجود صورتحال کے مطابق
شمالی وزیرستان کی پاک افغان سرحد پر 5 قلعے تعمیر ہو چکے جبکہ 216 کلو میٹر بارڈر پر 944 پوسٹس تعمیر کی جائیں گی۔ 70 پوسٹس 7 سے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ بارڈر کی نگرانی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کیساتھ ریڈارز، کیمرے اور سولر لائٹس نصب کی جا رہی ہیں۔ صحافیوں کو بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر 73 ایف سی ونگز تشکیل دیئے جائیں گے. اب تک 29 فنکشنل ہو چکے ہیں۔
دشمن کے ٹھکانے تباہ
آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں ملک کے دیگر حصوں میں جہاں دہشت گرد مارے گئے وہیں شمالی وزیرستان میں روپوش دہشت گردوں نے آپریشن کی اطلاع ملتے ہی بروقت اپنے ٹھکانے بدل لئے اور وزیرستان سے نکل کے بحفاظت افغانستان کے سرحدی علاقوں میں مقیم ہو گئے جہاں انہیں افغان اور بھارتی حکومتوں کی فوری سرپرستی میسر آئی۔
جنرل باجوہ کی حکمت عملی کے تحت جہاں سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا وہیں ایک اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پاکستان میں متعین افغان سفیر کو پہلی بار جی ایچ کیو طلب کرکے، پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست ان کے حوالہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا افغان حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے یا بصورت دیگر انہیں پاکستان کے سپرد کیا جائے۔
پارہ چنار میں عالم دین سے ملاقات:
جون 2017 میں پارہ چنار کے حالات انتہائی تشویشناک تھے. اس موقع پر آرمی چیف پارہ چنار تشریف لے گئے اور عالم دین سے ملاقات کی. اس موقع پر انھوں نے کہا کہ شرپسند عناصر کی فرقہ واریت کوہوادینےکی دشمن کی کوشش کامیاب نہیں ہونےدیں گے. ہم مسلمان اور بطور پاکستانی متحد ہیں. یاد رہے کہ پارہ چنار کے طوری بازار میں دو دھماکوں کے نتیجے میں پینسٹھ سے زائد افراد شہید جبکہ دو سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے.
جنرل باجوہ سے ملاقات کے بعد جلیلہ حیدر کی بھوک ہڑتال ختم
دو مئی 2018 کو کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر نے آرمی چیف کی یقین دھانی پر اپنی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال ختم کی .
چیف آف آرمی اسٹاف نے ملاقات کرنے والی ہزارہ خواتین کو یقین دلایا ہے کہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے گا۔
جنرل باجوہ نے قوم کو متحد ہونے کو کہا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ہر شہری کو مذہب، فرقے، زبان اور نسل سے بالاتر ہو کر ثابت قدم رہنا ہوگا.
آئی ایس پی آر کے تحت مختلف سیمینار کا انعقاد
سپہ سالار قمرجاوید باجوہ کے دو سالوں میں آئی ایس پی آر کا ادارہ مزید عوام کے قریب آیا. ان دو سالوں کے دوران شعبہ تعلقات عامہ نے مختلف سیمیناروں کا انعقاد کیا. جس کا پہلا دور رواپنڈی میں ہوا. جس میں انتہا پسندی کے تدارک کے لئے نوجوانوں کے کردار پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔
اس نشیت کا انعقاد ہائر ایجوکیش کمیشن کے اشتراک سےکیا گیا۔ سیمینار میں تمام یونیورسٹیزکے وائس چانسلر ، معروف دانشور،یونیوسٹیز اور مدارس کے طلبا سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوئے.
گذشتہ سال ہی سیمینار کا دوسرا دور کراچی میں ہوا یہ نشیت معیشت اور سلامتی سے متعلق رکھی گی تھی. جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تاجر برداری سے خصوصی خطاب کیا.
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی
جنرل باجوہ کی سپہ سالاری کے ان دو سالوں میں پاکستان کے گراونڈ بین الاقوامی کرکٹ کے لئے بحال ہوئے اگرچہ اس کا آغاز سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوچکا تھا تاہم جنرل باجوہ کے دور میں اس میں مزید بہتری آئی ہے.
کراچی اور بلوچستان میں امن کی صورتحال میں مزید بہتری
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دوسالوں میں ملک کے دیگر شہروں کی طرح ماضی کا پر خطر کراچی، خاصا پرسکون رہا. گذشتہ دو سالوں میں شہر قائد میں ایک دہشت گردی کا واقعہ ریکاڈر ہوا. یہ واقعہ 23 نومبر 2018 کو چینی قونصلیٹ میں پیش آیا تاہم دہشتگرد اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کاروائی کی بدولت واصل جہنم ہوئے.
بلوچستان: صوبے میں نسبتا امن ممکن ہوا ہے البتہ مستونگ کا واقعہ افسوسناک ضرور تھا تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی تین دسمبر کی پریس کانفرنس کے مطابق 2017 میں یہاں
جبکہ 2018 میں46 82
آغوا کے کیسزریکاڈر کیے گئے علاوہ ازاں، 2017 میں 813جبکہ 2018 میں
244
باغی بلوچوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی.
خوشحال بلوچستان کو مزید بہتر کرتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا افتتاح کیا.
سپہ سالار کی پارلیمنٹ آمد، نئی روایت:
جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرکے غیر معمولی اقدام کیا. اس موقع پر انہوں نے ملک کی قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال پر سینیٹ کے اراکین سے بات چیت کی.۔
اس سے قبل 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے تناظر میں اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی سمیت دیگر عسکری حکام نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دی تھی۔
اس موقعے پر جنرل کیانی نے اجلاس سے خطاب تو نہیں کیا تھا البتہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا نے عوامی نمائندگان کو بریفنگ دی تھی. دوسری جانب سابق چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں تاہم جب وہ خود صدر مملیکت کے عہدے پر بھی فائز تھے.
فاٹا قومی دھارے میں شامل:
آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی کوششوں کی بدولت رواں سال فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کر کے خیبرپختونخواہ میں ضم کیا کردیا گیا.
پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی قربتیں:
سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے ان دو سالوں میں دیگر پیش رفت کی طرح
پاکستان اور روس کے درمیان مثبت رجحان بھی دیکھنے میں آیا. اس دوستی کے پیش نظر روس نے پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر عائد پابندی ختم کردی. پاکستان اور روسی جنگی طیارے اور دوسرا سازو سامان خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے دونوں ممالک کے تعلقات میں اضافہ خطے کے مفاد ہی میں ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستانی فوجیوں کی روس میں تربیت کاتاریخی معاہدہ طے پا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں بتدریج بہتری آرہی ہے اور پاکستان اور روس کے درمیان تازہ معاہدہ بھی اسی بات کا مظہر ہے۔
روس کے سینٹر فار اینالسس آف اسٹریٹجی اینڈ ٹیکنالوجیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر کانسٹینٹن میکنکو کا کہنا ہے کہ روس نے اب پاکستان کو ایس یو
35
لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی ہے۔ روس بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، تاہم ففتھ جنریشن پروگرام سے متعلق بھارتی رویے کی وجہ سے روس کو پاکستان میں ایس یو لڑاکا طیاروں کو فروغ دینا چاہیے۔ ۔
گزشتہ برس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ روس پرکہا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ باہمی فوجی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ روس نے بھی پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ آرمی چیف کی طرف سے روس کا دورہ بھی پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی کڑی اور نئے خطوط پر استوار کی گئی خارجہ پالیسی کا حصہ اور بھارت کے جنگی جنون کے پیش نظر ایسا ناگزیر بھی
ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان
2017
اور
2018
میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہو چکی ہیں۔
کرتارپور بارڈر ، سکھوں کی اپنی عبادت گاہ میں آمد
وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی آرمی چیف کا سابق بھارتی کرکٹر سدھو سے بغل گیر ہونا ہندوستانی سرکار اور انڈین میڈیا کو ایک آنکھ نہیں بھایا البتہ آرمی چیف کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام کرتار پور بارڈر کھولنے کا سبب بنا. امسال اٹھائیس نومبر کو سکھ برداری کی کثیر تعداد نے پاکستان زندہ باد کہہ کر اپنی عبادت گاہ کا رخ کیا. اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کرتار پور بارڈر کھولنا امن کی طرف ایک قدم ہے۔
امریکہ کی جانب سے ڈومور کا سلسلہ بند:
سپر پاور امریکہ کے مزاج میں بھی لچک دیکھائی دی. امریکہ نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی خصوصی تشویشی فہرست سے استثنیٰ دے دیا ہے ۔ امریکی سفارتخانے کا کہناہے کہ پاکستان کو استثنیٰ اہم امریکہ قومی مفاد میں دیا گیا جبکہ یہ استثنیٰ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو دیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی خصوصی تشویشی فہرست میں شامل کیا گیا تھا ۔
سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ دنیا کی طاقتور ترین شخصیت:
مئی 2018 میں
عالمی جریدے فوربز نے دنیا بھر کے طاقتور اشخاص کی فہرست جاری کی. 75 افراد کی اس لسٹ میں دنیا کی چھٹی بڑی آرمی کی سربراہی کرنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود ہیں

kanwal Zehra is Journalist and Author