اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے منگل کے روز مارچ اور اپریل کے مہینے میں پیدا ہونے والے پیٹرول کے مصنوعی بحران کی انکوائری کرنے کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت کردی ۔

کورونا وائرس کےباعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی آئی تھی اور اس کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی ہوا جس کے بعد ملک میں پیٹرول کی شدید قلت ہو گئ اور آج وزیر اعظم عمران خان نے اس مصنوعی بحران کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر  بکر خدا بخش کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی۔

کمیشن میں اٹارنی جنرل آفس کا نمائندہ، انٹیلی جنس بیرو اور ایف آئی اے کے افسران ،

ڈائیریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب، سابق ڈی جی آئل پیٹرولیم ڈویژن راشد فاروق اور سی ای او پیٹرولیم انسیٹیوٹ آف پاکستان عاصم مرتضیٰ شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق کمیشن کو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور کمیشن کو آئل کمپنیوں، ریفائنریز اور پیٹرولیم ڈویژن کے عہدیداران کی ملی بھگت کی انکوائری کا اختیار  حاصل ہے۔

انکوائری کمیشن کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کی انکوئری کرے کہ پیٹرولیم ڈویژن کے کسی فیصلے، نوٹیفیکشن سے کسی کو فائدہ تو نہیں پہنچایا گیا۔ کمیشن اس بات کی انکوائری بھی کرے گا کہ آیا عالمی منڈی میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں  تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان نے فائدہ اٹھایا ہے کہ نہیں اور اگر نہیں تو اسکی ذمہ داری کس کی  ہے۔

اسکے علاوہ کمیشن اس بات کی بھی انکوائری کرے گا پیٹرول کی کتنی مقدار کم نرخوں پر خرید ی گئی اور آیا یہ فائدہ عوام تک بھی پہنچایا گیا کہ نہیں اور کس نے کمپنی نے کتنا منافع حاصل کیا۔

کمیشن کی تشکیل کے بعد اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے چیف جسٹس ہائیکورٹ لاہور سے درخواست کی ہے کہ پیٹرول کے بحران سے متعلق کیس میں کوئی فیصلہ نہ جاری کریں کیوں کہ حکومت اس معاملے کی خود تحقیقات کر رہی ہے۔