سپریم کورٹ نے این آر او سے متعلق کیس میں پرویز مشرف، آصف زرداری سےبیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ڈیم بنانے ہیں اور ملک کا قرض اتارنا ہے، جو بڑے سمجھتے ہیں وہ پکڑے نہیں جائیں انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔

سپریم کورٹ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں میں این آر او سے فائدہ اٹھانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس نے پرویز مشرف، آصف زرداری سے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بھی اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی کا کہا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ فریقین بیرون ملک جائیدادیں اورغیر ملکی اکاؤنٹ ظاہرکریں، کسی کی کوئی آف شور کمپنی ہے تو وہ بھی ظاہر کریں، فریقین اپنے بیان حلفی سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ملک قیوم اور آصف زرداری کی جانب سے جواب کب آئے گا؟جس پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت بتایا کہ آصف زرداری کی طرف سےجواب آگیا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ نے پراپرٹی اور فارن اکاؤنٹ ظاہر کرنے ہیں، آپ لوگوں کےباہر کوئی اثاثے نہیں اس پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لیں، عدالت کو بتائیں پاکستان سے باہر آپ کی اور بچوں کی کوئی پراپرٹی ہے یا نہیں۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے کہا میرے مؤکل 8مختلف مقدمات میں باعزت بری ہوئے۔

پرویز مشرف کے وکیل مشرف اختر شاہ نے جواب کے لیے 2 ہفتے کی مہلت مانگ لی اور کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے، پرویزمشرف عدالتوں کااحترام کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ذہن میں ایک ہزارلوگ ہیں جن سےتفصیلات لیں گے، ہم نے ڈیم بنانے ہیں اور ملک کا قرض اتارنا ہے، جوبڑے سمجھتے ہیں وہ پکڑےنہیں جائیں انہیں ڈھونڈنکالیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 7 اگست تک ملتوی کردی۔