اسٹیٹ بینک کی جانب سے جو اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں ان کے مطابق  2008 میں پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 46 اعشاریہ 161 ارب ڈالرز تھے جو 2018 میں بڑھ کر 95 اعشاریہ 342ارب ڈالرز تک پہنچ گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان دس برس میں جی ڈی پی میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ 23759 ارب روپے تھا۔ 2008 میں جی ڈی پی 10637 ارب روپے تھا جو کہ بڑھ کر 2018 میں 34396 ارب روپے ہوگیا، جسکے مطابق ان دس سالوں میں جی ڈی پی میں 223 اعشاریہ 36 فیصد اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ حکومت نے جب اپنی مدت پوری کی تو شرح نمو 5 اعشاریہ 8 فیصد تھی۔ 2008  میں ایک ڈالر 68 اعشاریہ 3 روپے کا تھا جو اب 156 اعشاریہ 6 روپے کا ہے۔

ستمبر 2018 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات 300 کھرب روپے تھا  جو کہ بڑھ کر 400 کھرب روپے ہوچکا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ بیرونی واجبات میں مرکزی بینک ڈپوزٹس، سواپس، ایس ڈی آر اور مرکزی بینک میں ڈپوزٹ مقامی کرنسی شامل ہیں۔ اجناس آپریشنز میں صوبائی حکومتوں کے بینکوں سے لیے گئے قرضے اور اس مقصد کے لیے پی ایس ایز شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی ذمہ داری اور قرضہ حدود ایکٹ 2005، جس میں 2017میں ترمیم کی گئی ۔حکومت کے مجموعی قرضوں کا مطلب وہ حکومتی قرضے (اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں شامل ہیں) جو کہ مستحکم فنڈز کی خدمات سے باہر ہےاور آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بینکاری نظام میں جمع کردہ ڈپوزٹ سے کم ہوں۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق قرضوں سے جی ڈی پی شرح اب ستمبر 2018 کی 80 فیصد سے بڑھ کر 104 فیصد ہوچکی ہے۔

انکوائری کمیشن کے سربراہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر ہیں، وہ خیبر پختونخوا حکومت کے تقریباً 40کروڑ ڈالرز قرضوں کی بھی تحقیقات کررہے ہیں جو کہ پشاور میٹروکی تعمیر کے لیے لیا گیا تھا جب کہ اسلام آباد، راولپنڈی ، لاہور اور ملتان میٹرو سسٹم ، کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتے کیوں کہ پنجاب حکومت نے ان پر اپنے وسائل سے پیسہ خرچ کیا تھا۔

پی ایس ایز کا قرضہ اب جی ڈی پی کے 5 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ چکا ہے جب کہ ستمبر 2018 میں یہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 5 فیصد تھا۔

گزشتہ دو حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضے ان کے استعمال اور اجراء کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں۔ انکوائری کمیشن کا قیام 22 جون کو عمل میں آیا تھا اور اسے چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔ اسے یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سرکاری یا نجی شعبے سے ، مقامی یا غیر ملکی شخص کو بطور رکن، کنسلٹنٹ یا مشیر یا معاون کے طور پر شامل کرسکتا ہے۔

عمر حمید کو کمیشن کا رکن/سیکریٹری تعینات کیا گیا تھا وہ اقتصادی امور ڈویژن کے تین سال سے زائد مدت کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری رہ چکے ہیں جب کہ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے زیادہ تر غیر ملکی قرضوں پر مذاکرات کیے تھے اور اب ان کی جانچ پڑتال ہورہی ہے۔