انسانیت سیاست سے بلند ہوتی ھے 
تحریر طاہر ملک 
محترمہ کلثوم نواز صاحبہ ان دنوں موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا ھیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے اور ان کی تکالیف میں کمی کرے سیاست میں کوئی کسی کا حامی ھے اور کوئی مخالف ہر کسی کو کسی بھی سیاسی جماعت کی حمائت اور مخالفت کا حق حاصل ھے مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کی سیاست سے ہزاروں اختلافات کئے جا سکتے ہیں لیکن مجھے کل مریم نواز کا اپنی والدہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے دعا کی اپیل کے ٹوئیٹ کے جواب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے جوابات پڑھ کر ھمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں اور زوال کا اندازہ ہوا۔ کوئی انہیں بد دعا دے رھا ھے تو کوئی ان کی بیماری کو ڈرامہ قرار دے رھا ھے ایک دفعہ سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی نے بلوچ روایات کے متعلق بتایا کہ بلوچ اپنے دشمن سے رزق زندگی اور موت کی دشمنی نہیں کرتے کیونکہ یہ تمام چیزیں اللّٰہ تعالیٰ کے اختیار اور قدرت میں ھوتی ہیں آزادی سے قبل مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین شدید سیاسی محاز آرائی اور نظریاتی اختلاف تھا لیکن گاندھی ھمیشہ محمد علی جناح  کو قائد اعظم کہہ کر  مخاطب کرتے اسی طرح جب قیام پاکستان کے بعد گاندھی کو ایک ھندو انتہا پسند نے قتل کردیا تو پاکستان میں سرکاری سطح پر اس کا سوگ منایا گیا اور سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔ پاکستان  میں کچھ سیاسی جماعتوں نے سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل کردیا ھے ھماری معاشرتی روایات میں دشمنی بھی اگر کسی مرد سے ہو تو اس کی بیوی بیٹیاں سانجھی تصور کی جاتی ہیں اور ان کو دشمن تصور نہیں کیا جاتا ۔تحریک انصاف کے حامی اکثر اعتراض کرتے ہیں کہ نوازشریف اتنا عرصہ اقتدار میں رھنے کے باوجود کوئی ڈھنگ کا ھسپتال نہ بنا سکے کہ جس میں ان کی اہلیہ کا علاج ہوسکتا یقینا پاکستان میں برسر اقتدار حکومتیں اس ضمن میں مورد الزام ٹھیرائی جاسکتی ہیں اور صحت تعلیم کے حوالے سے ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں لیکن کیا ھم نے یہی سوال کبھی جنرل مشرف سے کیا کہ افواج پاکستان کے زیر انتظام سی ایم ایچ جیسے بہترین ھسپتال ہونے کے باوجود وہ کمردرد کا بہانہ بنا کر بیرون ملک کیوں فرار ہوئے ؟
تحریک انصاف کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاھئے کہ انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کی سیاست میں شامل کیا لیکن کیا انہوں نے نوجوانوں کی سیاسی علمی اخلاقی تربیت کی کیا سیاست کا مقصد صرف  اقتدار حاصل کرنا ھے ؟ 
کیا نئے پاکستان کی زبان شیخ رشید اور عامر لیاقت کی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو اور تقاریر پر مبنی ہوگی ؟
اور کیا مسلم لیگ ن کو بھی اپنی جماعت کے راھنما وں رانا ثنا اللہ طلال چوہدری نہال ھاشمی وغیرہ کی مخالفین کے خلاف اخلاقیات سے عاری گٹھیا گفتگو کا نوٹس نہیں لینا چاھئے ؟
طاہر ملک