انجم عقیل اور اسلام آباد میں ووٹ کو عزت دو کنونشن
تحریر طاہر ملک


مسلم لیگ ن مختلف اضلاع اور شہروں میں ورکرز کنونشن منعقد کروا رھی ھے آج جب میں گھر سے نکلا تو مارگلہ روڈ اسلام آباد پر اس حوالے لگے بینر پر نظر پڑی اسلام آباد پاکستان کا دارالخلافہ ھے یہاں پر شرع خواندگی باقی تمام شہروں سے زیادہ ھے اس شہر کی اکثریت ابادی پڑھے لکھے نوکری پیشہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھتی ھے ۔بینر کے مطابق مسلم لیگ اسلام آباد کے ورکرز کنونشن کے منتظم سابق ایم این اے اور مسلم لیگی راھنما انجم عقیل خان ھیں جبکہ اس کنونشن سے سابق وزیراعظم نواز شریف خطاب فرمائیں گے ۔
ابھی چند روز پیشتر فاروق بندیال کی تحریک انصاف میں شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کردیا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو پاکستان کی سیاست میں بیدار اور شامل کرنے میں عمران خان کا اھم کردار ھے ان نوجوانوں کو تبدیلی کے خواب دکھا کر اور کرپشن سے نفرت کی مہم چلا کر اور لوگ نہیں نظریہ اھم ھوتا ھے کہ درس دے کر جب عمران خان نے روایتی اخلاقی اور مالی کرپشن میں حامل افراد کو پارٹی میں شامل کیا تو پھر ان نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل دیا ۔جس کے نتیجے میں پارٹی قیادت بھی اپنے فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی ۔
آج ھماری سیاست کا یہ المیہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ۔ھر سیاسی جماعت الیکٹبلز کے ھاتھوں یرغمال بن چکی ھے وہ جعفر لغاری ھو فاروق بندیال ھو سکندر بوسن ھو انجم عقیل ھو علیم خان ھو یا کوئی اور پارٹی کی علاقائی تنظمیں نظریاتی کارکن ان کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔
آج شہری حلقوں میں ہر سیاسی جماعت کے امیدوار لینڈ مافیا اور زمینوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔
جناب انجم عقیل خان گولڑہ گاؤں سے تعلق رکھتے ھیں نوے کی دھائی میں پرائمری سکول ٹیچر تھے پھر زمینوں کے کاروبار سے وابستہ ہوگئے ۔چند سال قبل برادرم رؤف کلاسرا نے اربوں روپے کی مالیاتی بدعنوانی کا سیکنڈل بے نقاب کیا ۔ جس پر بعد ازاں سپریم کورٹ نے سو موٹو لیا ۔
اس سیکنڈل کے مرکزی کردار انجم عقیل اور چند دیگر پولیس افسران تھے ۔پولس افسران نے پولیس فاؤنڈیشن کے نام سے اسلام آباد میں ایک ھاوسنگ سوسائٹی کے قیام کا ارادہ کیا اور انجم عقیل خان کی پراپرٹی فرم لینڈ لنکرز سے معاھدہ کیا ۔
انجم عقیل خان سوسائٹی کی ایک سو اٹھائیس کنال زمین ھڑپ کرگئے یاد رھے کہ پولیس فاؤنڈیشن سوسائٹی میں ان دنوں کنال کے پلاٹ کی قیمت چار کروڑ روپے ھے اس سارے عمل میں سوسائٹی کے عہدیداران اور سینئر پولیس افسران بھی ملوث تھے ڈی آئی جی افتخار احمد خان سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے قریبی رشتہ دار ھیں میاں حنان ڈی ایس پی پولس پنڈی سے تعلق رکھتے ھیں انہوں نے پنڈی میں کئی پڑول پمپ خریدے اور اپنے محلے میں مسجد بھی تعمیر کی ۔
انجم عقیل خان اور سوسائٹی نے سوسائٹی کا منظور شدہ ماسٹر پلان پلاٹوں کا سائز گلیوں کی چوڑائی سب کچھ تبدیل کردیا ۔گلیوں اور سڑکوں پر فٹ پاتھ ختم کردیے آپ پوری سوسائٹی میں واک کریں آپ کو کہیں فٹ پاتھ نظر نہیں آئیں گے ۔
سوسائٹی میں پبلک پارک کی جگہ ختم کرکے کمرشل ایریا اور پلازوں کے لئے مختص کردی ۔سکول اور مسجد کی جگہ بھی گول کرگئے ۔سرکاری سکول کی جگہ پولیس فاؤنڈیشن سوسائٹی نے روٹس سکول کے مالک فیصل مشتاق کو دے دی ۔مسجد کے لیے مختص پلاٹ کو تبدیل کرکے سوسائٹی میں سے گزرنے والے گندے نالے پر مسجد تعمیر کردی ۔ غیر قانونی طور پر پولیس فاؤنڈیشن سوسائٹی میں جرنیلوں سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں پلاٹ تقسیم کئے اس بہتی گنگا سے جنرل راشد قریشی عابد شیر علی اوردیگر شخصیات نے بھی ھاتھ دھوئے ۔رئٹائر منٹ سے قبل ہر سیکرٹری داخلہ کو اس سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ دیا جاتا ۔حتی کہ شفافیت اور ایمانداری کا درس دینے والے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ماتحت سیکرٹری داخلہ شاھد خان کے نام بھی اسی سوسائٹی میں کروڑوں روپے کا کمرشل پلاٹ لے اڑے جس دن انہیں پلاٹ الاٹ ھوا اسی دن انہوں نے بیچ ڈالا یہ خبر اخبار کی زینت بھی بنی لیکن کسی کے کان پر جوں نہ رینگی ۔شنید ھے کہ شاھد خان ریٹائرمنٹ کے بعد ان دنوں ایوان صدر میں کسی اھم عہدے پر فائز ہیں ۔
کیس کی سماعت اور نیب کی انکوائری ابھی جاری تھی کہ انجم عقیل خان اربوں روپے واپس کرنے پر رضامند ہوگئے ۔اور یوں ان کی جان اس کیس سے چھٹی ۔
انجم عقیل کی جانب سے ووٹ کو عزت دو کنونشن کا اشتہار دیکھ کر سوچنے لگا کہ ھماری سیاست اخلاقیات سے عاری کیوں ھے اور ھماری سیاسی قیادت عوام کی رھبری کے لئے لینڈ مافیا اور اخلاقی مالی بدعنوانیوں میں ملوث لوگوں کو ھی کیوں منتخب کرتے ہیں اس صورتحال میں امید کی ایک کرن سوشل میڈیا نظر آتا ھے جہاں عوام کھل کر ردعمل دیتے ھیں اور سیاسی راھنما عوام کے دباؤ کے نتیجے میں فاروق بندیال دوست محمد کھوسہ جعفر لغاری اور انجم عقیل جیسے کرداروں سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ھو جاتے ھیں ۔