اب ایک الگ بحث چل پڑی ہے کہ جناب سعودی اور ایرانی تنازعہ میں پاکستان اپنا کردار ادا کرئے ارے صاحب جب پاکستان اور بھارت کی کشیدگی چل رہی ہوتی ہے تو یہ دونوں ممالک گونگے کا گڑ لئے بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ بھارت مائی باپ ہے خوب پیسے والا ملک ہے. تب یہ پاکستان کومشورے دینے والے عناصر کہاں روپوش ہو جاتے ہیں ؟دوسری جانب پاکستان میں مقیم روحانی طور پر مکمل ایرانی اور سعودیوں کے جذبات ان ممالک کے لئے جاگ جاتے ہیں جو ان کو شہریت نہیں بلکہ اقامے پر رہنے کی اجازت دیتے ہیں. یہ عناصر کہتے ہیں اگر پاکستان کی سرزمین ان کے روحانی ممالک کے خلاف استعمال ہوئی تو مذمت کریں گے. یہاں میں یہ کہتی چلوں کہ پاکستان ہر گز بھی ایسا کرنے کے متحمل نہیں ہے مگر حضور یہ بھی ضرور کہونگی کہ کیا جب ان پاکستان میں مقیم روحانی طور پر مکمل سعودی اور ایرانیوں کے اس وقت زبان پر کوئی مرض لگ گیا تھا جب گجرات کے قصائی کو عرب ممالک ایواڈرز سے نواز رہے تھے. جب ایران پاکستان کو دھمکیاں دے رہا تھا جبکہ اس کے ملک میں دہشتگردی کا واقعہ اور ان کے فوجیوں کا مرجانا پورس بارڈر اور ان کی سیکیورٹی کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا. پاکستان تو ایران کو بارڈر منجمنٹ کے موضوع معتدد بار آن بورڈ آنے کی دعوت دے چکا ہے مگر ایرانی سرکس کے کرتب دیکھانے والی فوج ،دس محرم کو فٹ بال میچ کرانے والی قیادت، موتا کے جوش سے لبریز عوام کو خیال ہی نہیں آتا تاہم اپنے باپ بھارت کے کہنے پر پاکستان پر بھونکنے سے باز نہیں آتے. یہ ہی حال سعودیہ کا ہے، تلور کے شکار کے عاشق شیخوں کی مرغوب غذائیں اور شباب کی مستی کی تو دنیا گواہ ہے. میری التماس ہے پاکستان میں مقیم مکمل طور پر ایرانیوں،سعودیوں اور بھارت کے ان کرم فرموں سے وہ پاکستان پر غرانے کے بجائے ایل او سی کا ایریا آباد کریں اور بھارتی گولیوں کا نشانہ بن کر خالصتا محب الوطن پاکستانیوں کو یہ موقع دیں کہ ہم انہیں سپرد خاک کرسکیں.. شکریہ

Writer KanwalZehra is a journalist and blogger.