ویب ڈیسک: اسلام آباد سے اغواء ہونے کے بعد بازیاب ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔

مطیع اللہ جان نے اپنے بیان تمام تفصیل بتائی کہ انہیں کیسے پکڑا گیا ، کہاں لے کر گئے اور انکے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ مطیع اللہ جان نے اپنے بیان میں بتایا کہ پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس افراد نے انہیں  زاتی گاڑی سے نکالا اور گاڑی میں بیٹھا کر اپنے ساتھ لے۔

انہوں نے بتایا کہ انکی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور کسی جیل نما جگہ پر لے گئے جہاں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے۔ کچھ دیر بعد میری آنکھوں سے پٹی ہٹاتے اور پھر اس پر غصہ کرتے کہ پٹی ہٹانے کی کوشش کیوں کی۔

مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ میں ان سے گزارش کرتا رہا کہ میری اہلخانہ کو میری خیریت کے بارے میں اگاہ کر دیا جائے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں مزید اپنے بیان میں بتایا کہ ایک بار پھر مجھے گاڑی میں بیٹھا کر لے جایا گیا اور پانی مانگنے پر منہ پر پانی پھینک دیا گیا۔

صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے بیان میں لکھا کہ انہیں ایک جگہ اتار کر لیٹا دیا گیا اور پھر مجھ سے پشتو لہجے میں میرا نام پوچھا گیا  جس پر میں نے اپنا نام بتایا کہ میں مطیع اللہ جان ہوں جس پر مجھ سے پوچھا گیا کہ تم زرک خان نہیں؟ اور یہ ظاہر کیا گیا کہ جیسے غلط بندہ لے آئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے میرے سر پر ایک ضرب لگائی گئی جس کے بعد میں نے بیہوش ہونے کا ڈرامہ کیا اور میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑا دی گئی، انکا کہنا تھا  جب مجھے معلوم پڑا کہ سب جا چکے ہیں تو میں چل کر روڈ پر آیا جہاں مجھے

فوج کی چوکی نظر آئَی اور  اپنا تعارف کرانے پر کرسی پر بیٹھایا گیا اور کچھ دیر بعد ہی

فوج کے افسران پہنچ آئے۔

انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ فوجی افسران نے ویگو گاڑی میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ گھر روانہ کیا۔