استاد کی عظمت کو سلام “عالمی یوم اساتذہ ”
میں شعبہ تدریس سے گذشتہ چھ سال سے وابستہ ہوں اور استاد کی عزت و تکریم سے بخوبی آگاہ ہوں۔میرا تعلق اسلام آباد کے ایک نجی سکول سے ہے جہاںپر اعلی معیار تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیگر صلاحیتوں کو نکھارنے کے فرائض بہت سے اساتذہ سرانجام دے رہے ہیں۔ صبح کے چھ بجتے
ہیں اورالارم کی گھنٹی ہمیں ایک نئے دن کے لیے تیار کرنا شروع کرتی ہے اور ہم خدا کے بابرکت نام سے اپنا دن کاآ غاز کرتے ہیں- تین سے چھ سال کے بچوں کو مونٹیسوری سکول میں پڑھانا اور اٰن کے ساتھ وقت گذارنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔
بچوں کو نصاب کے مطابق تعلیم دینا اور ان کی دینی و دنیاوی تربیت کرنا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اور بطور استاد ہم اپنی ذمہ داریوں کو اپنی اپنی ہمت اور حوصلہ کے مطابق بخوبی سرانجام دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں، کیونکہ استادقوم کے معمار ہوتے ہیں اور یہ بچے ماں کی گود سے نکل کر استاد کی گود میں اپنے دن کا نصف حصہ گذارتے ہیں۔ان خوبصورت پھول اور کلیوں کی خوشبو ان کی میٹھی میٹھی باتوں میں چھپی ہوتی ہے جس کا اظہار وہ کرتے رہتے ہیں ،اور والدین کی طرف سے بچوں کی کارکردگی پر خوشی اوراطمینان ہو اور اساتذہ کی محنت کوسراہاجائے تو استاد کی ساری محنت رنگ لےآتی ہے۔

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں “یوم اساتذہ” منایا جارہا ہےاوراس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر اساتذہ کی محنت اور کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کو درپیش مسائل کے حل کی لیے حد ممکن اقدامات کی طرف سرکاری اور نجی شعبے کی توجہ مبذول کرانا ہے ۔۱۹۹۴ میں پہلی مرتبہ اقوامتحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو، یواین ڈی پی،ادارہ برائے مزدوراں کے مشترکہ تعاون سے اساتذہ کا عالمی دن منایا گیا تھا۔اس سال کا موضوع “ نوجوان اساتذہ شعبہ تدریس کا مستقبل”ہے
شعبہ تدریس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سےمنسلک ہو کر ترقی کی نئی منازل تہ کر چکا ہے، جہاںبات اب کتابوں سے نکل کر انٹرنیٹ تک جا پہنچی ہےاور تدریس کے دوران آپ کو اس تمام ٹیکنالوجی کا استمال کرنا پڑتا ہے۔


پاکستان میں اس وقت دو طرح کے نظام تعلیم میں اساتذہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ایک سرکاری سکولوں میں اور دوسرا نجی سطح پر قائم سکولوںمیں، اور دونوں ہی جگہوں پر اساتذہ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور ان درپیش مسائل کی وجہ سےاکثر ذہنی کوفت کا سامنا رہتا ہے۔
سرکاری سکولوں کی بات کی جائے تو محدود حکومتی بجٹ، کم تنخوائیں،سیاسی اور میرٹ سے ہٹ کے بھرتیاں،رہایشی اور طبی سہولیات کا فقدان،مستقل تبادلے،تربیتی مواقعوں کی کمی،اضافی طلبہ اور زاِئد کلاسز کا بوجھ، عارضی ملازمین ،ٹیکسٹ بکس کی عدم دستیابی،تربیتی ریورس کی کمی ، سکولوں کی مخدوش صورتحال،اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی جیسے مسائل اساتذہ کو درپیش ہیں۔
دوسری طرف نجی سطح پر قائم سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اِن میں محدود تنخواہیں، وقت پر تنخواہیں نہ ملنا ،تنخواہوں میں سالانہ اضافہ نا ہونا، جاب سیکورٹی نہ ہونا ، طبی اور رہائشی سہولیات کی عدم دستیابی ، والدین کی طرف سے بےجا مداخلت اور ٹرانسپورٹ اور مینجمینٹ کی جانب سے روز بدلتی پالیسیاں جیسے مسائل شامل ہیں۔
ثنا سہیل ایک استاد ہیں اور اسلام آباد کے نجی سکول سے منسلک ہیں ان کے خیال میںوالدین ہزاروں روپے فیس دینے کے بعد یہ توقع کرتے ہیں کہ بچہ سب سکول سے ہی سیکھے گا اور وہ بنیادی تربیت جو بچے کی گھر سے ہونی چاہیے تھی وہ بھی اکثر سکول میں کرنی پڑتی ہےاور نجی سکولوں میں اساتذہ کو ان کی تعلیم اور محنت کے مطابق تنخواہیں نہیں دی جا تی اور اکثر بہت دیر سے تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں جس سے گھر کے ماہانہ اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہمیرا کنول کا تعلق ایک سرکاری سکول سے ہےاور اساتذہ کے مسائل کا ذکر کرتےہوئے انھوں نے بتایا دیگر مسائل تو ایک طرف سرکاری سکولوں میں ایک ایک جماعت میں چالیس سے پچاس کی تعداد کے لگ بھگ بچے ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال میں بچوں کو معیاری تعلیم دینا مشکل کام ہوتا ہے۔ان کے خیال میں ایک کلاس میں تیس سے زائد بچے نہیں ہونے چاہیےتب ہی ایک استاد بہتر طریقے سے پڑھا سکتا ہے ۔
،
پاکستان میں اس وقت جہاں طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہے و ہیں پراساتذہ بڑی تعداد ب میں موجود ہیں ۔ اور تعلیم کا شعبہ تب ہی ترقی کر سکتا ہے جب ہم اس شعبہ سے وابستہ افرادکے مسائل کو ترجہی بنیادوں پر حل کریں۔اساتذہ کے مسائل کو رجسٹر کرانے کے لیے خصوصی ہیلپ لائین قائم کی جائےان کے لیےطبی و رہاِئشی سہولیات، وقت پر ترقی، تنخواہوں میں اضافہ،جدید ریورس کی فراہمی یقینی بنائی جائے،اور اس کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں کی مانیٹرینگ کو ضروری بنایا جائے کیونکہ جن اداروں میں ملازمین کے حقوق کو پورا نہ کیا جاتا ہو وہاں پرتدریس کا عمل بھی صہیح نہیں چل سکتا

تحریر : نورین ذیشان


————————————————