وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ارشاد رنجھانی کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کو مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں تین روز قبل یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے ارشاد رنجھانی نامی شخص کو ڈاکو سمجھ کر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

رحیم شاہ کا دعویٰ تھا کہ انھیں لوٹنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ یوسی چیئرمین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ون فائیو پر اطلاع کردی تھی لیکن ٹریفک کی وجہ سے پولیس تاخیر سے پہنچی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ٹیلیفون کیا اور مکمل انکوائری کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کوئی اتنی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟ اور زخمی کو اسپتال کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ قانون کی بے خوفی کا نتیجہ نظر آرہا ہے۔

مقتول ارشاد رانجھانی کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اگر ارشاد گناہ گار تھا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جاتا، ظالم شخص نے معصوم کو بے گناہ مار ڈالا ہے۔