شہبار شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اور رانا ثناءاللہ کے کیسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت اور انسداد منشیات عدالت کے تین ججوں کی خدمات واپس لیتے ہوئے انہیں کام سے روک دیا گیا۔

ججز کی تبدیلی کے لئے وزارت قانون کا نوٹیفکیشن

وفاقی وزارت قانون نے لاہور کی احتساب اور خصوصی عدالتوں کے تین ججز کو واپس لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا۔

جج مسعود ارشد اسپیشل کورٹ لاہور تعینات تھے، جج محمد نعیم ارشد احتساب عدالت نمبر 5 لاہور میں خدمات سرانجام دے رہے تھے اور جج مشتاق الہی احتساب عدالت نمبر 1 لاہور میں تعینات تھے۔ وزارت قانون و انصاف نے تینوں ججز کی خدمات واپس کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سے متبادل ججز کیلئے نام مانگ لئے۔

رانا ثناءاللہ شراب برآمدگی کیس کی سماعت کے دوران جج مسعود ارشد نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں وٹس ایپ پر ٹرانسفر کے احکامات موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہائیکورٹ نے کام کرنے سے روک دیا ہے اور میری خدمات واپس کر دی گئی ہیں۔

جج مسعود ارشد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کیا ہوا ہے، میرا ملک پاکستان ہے، میں اسکا ایک آزاد شہری ہوں۔ میرا ادارہ اگر میرے پیچھے ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ مجھے وٹس ایپ پہ پیغام موصول ہوا ہے کہ آپ کی خدمات واپس کی جا رہی ہیں۔ جج مسعود ارشد نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک تبدیلی کا نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا صرف وٹس ایپ پیغام آیا ہے۔