” آہ زینب “

 انا للہ و انا الیہ راجعون

تحریر سعدیہ چوہدری

جن بیٹیوں کو دیکھ دیکھ کر میری سانس چلتی ہے اور جن کی خاطر یہ دل دھڑکتا ہے، آج ان کی مسکان دیکھ کے خوشی نہیں ہو رہی، ان کی معصوم شرارتوں پہ پیار نہیں آ رہا.. ان کی چمکیلی آنکھوں اور مسکراتے چہروں میں زینب سے مشابہت نظر آ رہی ہے.. خوف آ رہا ہے.. کہ زینب کی ماں کی جگہ میں بھی ہو سکتی تھی…. زینب کی جگہ میری مریم اور میری ازکی١… میری جان کے ٹکڑے… نہیں نہیں… میرادماغ خراب نہیں ہوا.. ہوش و حواس قائم ہیں… تو کیا ہوا اگر ایک بچی کسی ذہنی معذور جانور(ایسی ذلیل مخلوق کوانسان کہنا ممکن نہیں) کا شکار بن گئی.. تو کیا ہوا، ہر روزبہت سی لڑکیاں، بچیاں اور بچے اسی سلوک کا نشانہ بنتے ہیں، شمعیں جلانے، مذمت کرنے، لفظی کارروائی کرنے کے بعد اس واقعے کو بھلا دیا جاتا ہے.. اور اگلے واقعے تک خاموشی چھا جاتی ہے..

 

شہر کا نام، شکار کا نام، شکار کی عمر، حلیہ، شکاری کا نام، عمر، رشتہ، شکار کی جگہ بدل جاتی ہے مگر یہ پامالی کی روایت نہیں بدلتی.. سال، مہینے، دن، کیلنڈر، موسم، فیشن.. سب بدلتا رہتا ہے.. نہیں بدلتا تو یہ رویہ، یہ بدسلوکی نہیں بدلتی…

آج یہ الفاظ کسی مصنف یا صحافی کے نہیں، صرف ایک ماں کے ہیں.. وہی ماں جو آپ سب کی، میری، زینب کی، سب کی ہوتی ہے.. ایک لمحے کو زینب کی ماں یا باپ بن کے سوچیں.. ایک گڑیا جتنی بچی کو پالنے سے سکول تک بھیجنے کے دوران ماں اور باپ نے کیا کیا سپنے بنے ہوں گے، زینب ڈاکٹر بنے گی، نہیں، یہ تو پائلٹ بنے گی.. زززوووم کر کے جہاز اڑائے گی.. ارے نہیں.. میری بیٹی تو بینکر بنے گی یا پھر ایتھلیٹ…

اور پھر کیا ہوتا یے… زینب ایک مسلا، کچلا ہوا، مرجھایا ہوا بے جان وجود بن کر کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے..

اور پتا ہے کیا.. اس زینب کی آنکھیں، بال، نقوش ہمارے خاندان یا دوستوں میں سے کسی بچے سے ملتی ہوں گی.. دیکھو ذرا اس کے بال.. یہ تو میری بیٹی جیسے ہیں.. یہ آنکھیں تو دیکھیں، آپ کے آس پاس کسی بچی کی ہیں.. یہ بچی صرف ایک نہیں تھی، ایسی بہت سی ہمارے سامنے، آس پاس،  ہمارے گھروں، محلوں، سکولوں میں ہر جگہ ہیں..

کب تک ہم صرف لفظوں سے کام چلا سکیں گے؟ کب تک موم بتیاں جلا کر، مذمت کر کے، کاغذوں کا پیٹ بھر کے ہاتھ جھاڑ کر اپنی معمول کی زندگیوں میں لوٹ جائیں گے؟

کیوں ایسے ذلیل مجرموں کو سر عام پھانسی نہیں چڑھایا جاتا، کیوں انہیں کوڑے مار کر نشانہ عبرت نہیں بنا دیا جاتا..

جب تک یہ آگ ہمارے گھروں تک نہیں پہنچ جاتی ہم یوں ہی بے حسی سے تماشائی بنے رہیں گے؟

اگر یہی آج کا رواج ہے تواپنی اپنی زینب کے لیے ابھی. سےانا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لیں.. اس بےشعور، بے درد اور بےحس معاشرے میں اس آگ کے

شعلے ہمارے دامنوں تک پہنچنے میں شاید زیادہ وقت نہ لگے..

_________________________________________________________

تحریر سعدیہ چوہدری

سعدیہ چوہدری گزشہ بارہ سال سے سماجی و معاشرتی مسائل اور انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے اپنی اپنی تحریری اورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کر رہی ہیں.اخبارات اور ریڈیو سے وابستگی کے علاوہ بطور فری لانس مصنفہ بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہیں.