آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو احتساب عدالت نے یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو نیب کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کو احتساب عدالت نمبر 3 میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلا ریمانڈ ہے، 14 روزہ ریمانڈ مانگ رہے ہیں، نیب قانون میں 90 روزہ ریمانڈ ہوسکتا ہے۔

ایڈووکیٹ شہاب سرکی نے کہا کہ گھرمیں جس طرح کارروائی کی گئی وہ نامناسب ہے، آغا سراج درانی بیمارہیں، دو اتک نہیں دی گئی۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ہمارے پاس ڈاکٹرزموجود ہیں، ملزم کا میڈیکل کرایا گیا ہے، آغا سراج درانی نے کہا کہ گھرسے کیا لے گئے ہیں اورکیا اپنے پاس سے شامل کریں گے، معلوم نہیں ہے۔

بعدازاں احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔

آغا سراج درانی کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، عدالت کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔

احتساب عدالت انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کیا پولیس صورت حال کنٹرول کرسکتی ہے، رینجرزکی معاونت درکار ہوتو بھی بتایا جائے۔

عدالت انتظامیہ نے کہا تھا کہ صورت حال قابومیں نہ رہے تورینجرزطلب کی جا سکتی ہے، احتساب عدالت کی ہدایت کے بعد تھانہ پریڈی سے اضافی نفری طلب کرلی گئی۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں احتساب عدالت پہنچے۔ نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گزشتہ روز اسلام آباد کے نجی ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔

بعدازاں نیب کی جانب سے آغا سراج درانی کو راہداری ریماند کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ نیب نے موقف اپنایا تھا کہ اسپیکرسندھ اسمبلی کے خلاف کراچی میں اثاثہ جات ریفرنس زیرسماعت ہے۔