آزادی کے رکھوالےتحریر: کنول زہرا 

    اللہ بخشے میری دادی اور نانی مر حومہ ہر سال،23 مارچ اور 14 اگست پر خاندان بھر میں شاندار دعوتوں کا انعقاد کیا کرتی تھیں۔ اس روز کی دعوتوں کا مقصد ہندوستان میں شہید ہوجانے والے اقارب کو یاد کرنااور ان کی فاتحہ کا اہتمام کرنا تھا۔ میری دادی 35 برس کی عمر میں پاکستان آئی تھیں جبکہ نانی اماں کی عمر اس وقت 22 سال کی تھی۔ دونوں سگی بہنیں تھیں اور ان کو بھارتی مظالم ازبر تھے لہ©ٰ©©©ذا اکثر رات کو تحریک آزادی کے خون آشام دن اور لزرتی راتیں یاد کرکے آب دیدہ ہوجایا کرتی تھیں۔کہا کرتی تھیں کہ 1947 میں ہندوستان میں ریاستی دہشتگردی کے تحت مسلمانوں پر زمین اور زندگی تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اخلاق سے گرے ہوئے وہ انسان سوز مظالم کیے گئے جسے یاد کر کے روح کانپ جاتی ہے۔ نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ آزادی کی جدوجہد کے دنوں میں ہندوستان کے پانی کے کنوئیں مسلمانوں کے خون سے لال ہو گئے تھے۔    بلاشبہ آزادی نعمت ہے۔ جس کا اندازہ مقبوضہ کشمیرکے مکینوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو اپنی سرزمین سے قابضین کو نکالنے کے لئے 73 سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔یوں لگتا ہے آزادی کا لفظ محبت سے ماخوذ ہے جس کے تحت معشوق اتنا نڈر ہوجاتا ہے کہ بندوق کے سامنے بھی بلا خوف کھڑا ہوجاتا ہے اور عالیشان محلات کو بھی ٹھوکر مار دیتا ہے اور جب محبت حاصل کرلیتا ہے تو اپنی محبت کو ہر نظرِ بد سے بچانے کے لئے خوف کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ڈر کو تاراج کرتا ہوا فاتح بن جاتا ہے۔ جس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے اجداد نے تن، من،دھن وارا تھا آج اس محبت کا دفاع اسی بے خوفی سے ہماری پاک افواج کر رہی ہیں۔اللہ کے فضل و کرم سے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں کسی ملک نے اپنی بقا کی ایسی جنگ نہیں لڑی جیسا کہ پاکستان نے کر دکھایا۔اللہ کے کرم سے 1965 میں بھا رتی شرپسند ی کے منہ توڑ جواب سے آج تک افواج پاکستان نے کبھی قوم کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔     میں یہاں ماضی کی فتوحات کا تفصیل سے ذکر نہیں کرونگی بلکہ نئے دور میں بات کرتے ہوئے رواں سال کی 27 فروری کا ذکر ضرورکرونگی جب پاک مسلح افواج نے دشمن کو دھول چٹا کر اس کا مکا اس کے ہی منہ پر دے مارا تھا۔ 26 فروری کو جب بھارتی میڈیا اپنی جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے سے اپنی عوام کو لطف اندازو کررہا تھا تو وزیراعظم عمران خان اور ترجمان افواج پاکستان بھارت کو متنبہ کر رہے تھے کہ ہمارے امن کی کوشش کو کمزوری مت سمجھو، بہرحال ستائیس فروری کو ان کو افواج پاکستان کی جانب سے وہ جواب ملا کہ بھارتی سینا کوکُل عالم میں شرمندگی کا سامنا ہو۔ بعد ازاں شکست خوردہ بھارت نے اپنی سمندری فوج کے ذریعے پاکستان کی سمندری حدود میں شرانگیزی کی کوشش کی جسے پاک بحریہ نے 5مارچ 2019 کو ناکام بنایا اور بھارتی آبدوز کسی قسم کی جارحیت سے قبل ہی شکست سے دوچار ہوگئی۔یاد رہے ایسا پاکستان کے سمندر کے پاسبانوں نے پہلی بار نہیں کیا بلکہ نومبر 2016 میں بھی پاک نیوی دشمن کا مشن ناکام بنا چکی ہے۔    شاید بھارت 1971 کی جنگ میں پاکستان نیوی کی آبدوز ہنگور کا کارنامہ بھول گیا تھا جس کے لئے مختصرطور پر اتنا ضرور لکھو ں گی کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی آبدوز کی جانب سے ایسا کارنامہ سرانجام دیا گیاتھا جو پاکستان نیوی کی سب میرین ہنگور نے بھارتی بحری جہازوں کو سمندر میں غرق کرکے دکھایا۔ دفاعی اطوار سے ہی نہیں بلکہ پاکستان نیوی ملک میں معاشی بہتری کے لئے بھی ہراول دستے کا کام کررہی ہے۔ پاکستان کے سمندری محافظ سمندر کے ذریعے ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے قومی پیدا وار کو تین گنا تک بڑھانے کے لئے مصروف عمل ہیں۔    پاکستان نیوی کی مادر وطن سے محبت یہاں ہی نہیں ختم ہوجاتی بلکہ وطن کے ان سپوتوں کی اپنی دھرتی کے لےے خدمات بے حساب ہیں۔سمندر کا سینہ چیر کر دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے، پاکستان کے سا حل کو پرامن بنانے کے لےے ہرگھڑی تیار کامران یہ سپاہی گہرے سمندر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے سے لے کر قومی اثاثوں کی حفاظت، علاقا ئی اشتراک اور بحری سکیورٹی گشت سے لے کر عالمگیر شراکت داری تک ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔    پاکستان کو سمندری تجارت اور دفاعی اعتبار کے لحا ظ سے پر امن بنانے کے لےے پاکستان نیوی نے 2007 میں امن مشقوں کا انعقاد کیا۔اب تک چھ امن مشقوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ ان مشقوں کا مقصد بحری تعاون کو بڑھانا‘ علاقائی اورعالمی استحکام کیلئے محفوظ سمندری ماحول کافروغ اور سمندروں کومحفوظ بنانا ہے۔ پاک بحریہ کی اس کاوش کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اب تک پچاس ممالک ان مشقوں میں حصہ لے چکے ہیں جبکہ ان کی تعداد میں ہر بار اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔پاک بحریہ کی جانب سے منعقد کردہ یہ سیریز سی پیک کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔    پاکستان نیوی کے محنتی انجینئرز بھی کسی سے کم نہیں حال ہی میں انہوں نے پاک بحریہ کا فلیٹ ٹینکرپی این ایس معاون بنایا ہے۔فلیٹ ٹینکر کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تعمیر ہونے والا سب سے بڑا بحری جنگی جہاز ہے۔ یہ مختلف قسم کے میری ٹائم آپریشنز انجام دے سکتا ہے۔ فلیٹ ٹینکر جنگی حالات سے نبرد آزما ہونے اور اس دوران رسد پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاز پر 2 ہیلی کاپٹروں کی گنجائش موجودہے۔ پی این ایس معاون پر جدید ترین طبی سہو لتیں موجود ہیں جس کی بدولت یہ جہاز کسی بھی قسم کی قدرتی آفات کے دوران سمندر میں محو سفر دوست ممالک کے بحری جہازوں کو فوری امداد بھی فراہم کر سکتا ہے۔    پروردگار نے ہمیں سمندر جیسی نعمت تو دی ہے مگر ہمیں اس کی قدر نہیں ہے۔ سمندر کی اہمیت سے روشناس کرانے کی ذمے داری بھی پاکستان کے بحری سپاہیوں کے کندھوں پر ہے جسے وہ احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں.پاکستان نیوی نے ستمبر 2017 سے سمندر کی اہمیت اور اس کی صفائی کا خیال رکھنے کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا. اس کے تحت مختلف ورک شاپس اور سیمینارز کرائے جاتے ہیں جس میں خطے کو درپیش مسائل اور ان کا حل، سی پیک اور بلیو اکانومی کی اہمیت کواُجاگر کیا جاتا ہے۔    پھر پاک بحریہ کی اہم ترین خدمات چائنا، پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک سے بھی جڑی ہوئی ہیں جو کہ ہمارے قومی اثاثوں میں ایک اہم جزو ہے۔ گوادر پورٹ کے فعال ہونے سے ملکی معیشت میں انتہائی قابل ذکر اضافہ ہو گا۔ پا ک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ منصوبہ ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ۔ پاکستان کا دشمن جارحیت کے ذریعے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کا حصول چاہتا ہے۔ اتنی منہ کی کھانے کے بعد بھی دشمن کو اندازہ نہیں کہ ان کا مقابلہ پاکستان کے بہادروں سے ہے۔پاک بحریہ اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔یہ جوان محدود وسائل ہونے کے باوجود اپنی ذمے داریوں سے غافل نہیں ہیں۔ گوادار کی بندر گاہ کی حفاظت کے لئے پاک بحریہ نے خصوصی میرین بٹالین جسے ٹاسک فورس 88کہا جاتا ہے بھی قائم کی ہے جس کی ذمہ دارےوں میں گوادر پورٹ کی سمندری جانب سے سکےورٹی شامل ہے۔    جنگی منصوبوں کی جانچ کے لئے پاک بحریہ کی جانب سے ہر دو سال کے بعد مشق سی اسپارک ( سمندری شعلہ ) کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں مکمل جنگی ماحول بنایاجاتا ہے کہ کس طرح اپنے ملک کا دفاع کرکے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے۔مشق کے دوران ساحلی تنصیبات کی زمینی اور فضائی حفاظت کی مشقیں کی جاتی ہیں۔سی اسپارک نامی اس مشق کا دورانیہ دو ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ اسے بحیرہ عرب اور جیوانی سے لے کر سرکریک تک پاکستان کی ساحلی پٹی پر منعقد کیا جاتا ہے۔اس مشق میں پاک بحریہ کے تمام یونٹس، جہاز، سب مرینز، ایئر کرافٹ، ڈرونز سکواڈرن، اسپیشل سروسز گروپ اور پاک میرینز کے علاوہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ، پاک آرمی اور ایئر فورس کے دستے بھی شامل ہوتے ہیں۔    مسلح افواج کی مشتر کہ کاوشوں سے ہی ملک میں پائیدار امن کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ وطن عزیر کی بقا اور سر بلندی میںپاکستان آرمی، پاک بحریہ ، پاک فضائیہ، رینجرز اور پولیس کا کردار مثالی ہے۔خیال رہے کہ جنگیں صرف افواج ہی نہیں بلکہ حکمران ، سیاست دان اور عوام اپنے بہادر سپوتوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہیں۔لہذا خانہ جنگی والے ممالک کے حق میں دعا گو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی افواج کی قدر کیجئے۔ اہل وطن کو ماہ آزادی مبارک۔پاکستان زندہ باد..