آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع،کیوں ضروری ہے ؟
تحریر: کنول زہرا
19 اگست 19 کو نیوز چینلز پر نشر ہونے والی خبر جو کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے معتلق تھی. پاکستانی و بھارتی صحافیوں و تجزیہ کاروں کی نظریں اس جانب مرکوز ہوگئیں. توقعات کے عین مطابق پاکستانی میڈیا عناصر سمیت بھارتی ابلاغ عامہ کو بھی خوب صدمہ ہوا. دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو سراہا گیا.دوست ملک چین نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ پاک آرمی کے غیر معمولی لیڈرہیں. یقین ہے،جنرل قمرجاوید باجوہ علاقائی امن اور خطے کی سیکیورٹی اور سی پیک کی تکمیل کے لئے پہلے سے زیادہ متحرک رہیں گے.
جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2016 میں پاکستان کے 16 ویں آرمی چیف مقرر ہوئے. منصب کی چھڑی سنھبالنے کے بعد سے تاحال وہ پاکستان کی خدمت میں کوشاں ہیں. رواں سال جنرل باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو پوری ہونے والی تھی تاہم خطہ کی صورتحال دیکھ کر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ان کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کردی.
خطے کی صورتحال کے حساب سے سب واقف ہیں. جب سے امریکہ نے افغانستان سے انخلا کے لئے پاکستان سے رجوع کیا ہے بھارت کو اپنا افغانستان سے اثرورسوخ ختم ہوتا نظر آرہا ہے جبکہ ناگاہ لینڈ اس سال چودہ اگست کو بھارت سے نجات حاصل کرکے یوم آزادی مناچکے ہیں ادھر سکھ برداری بھی مودی اسٹیٹ سے چھٹکارا چاہتی ہے. ان حالات کے پیش نظر انڈیا نے اپنا سارا ذہنی خلفشار معصوم مقبوضہ کشمیری عوام پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کے طور اترنے کی آمرانہ کوشش کی ہے.
مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے پاکستان کسی صورت مقبوضہ وادی کے عوام کو بھارتی رحم کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتا ادھر پاکستان کے اندرونی معاملات کے تناظر میں احتساب کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے. ان حالات کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دی ہے. ایسا عمل پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ جنرل کیانی کی ملازمت میں توسیع کے بارے میں اس وقت کے صدر آصف زرداری نے کہا تھا میں نے اپنے اور اداروں کی مضبوطی کی خاطر یہ اقدام کیا ہے.
اگر جنرل کیانی اور موجودہ حالات کا تقابل کیا جائے تو آج کا پاکستان زیادہ مسائل کا شکار ہے اگرچہ اب ہم بہتری کی جانب گامزن ہیں مگرکھٹن دور سے آسانی سے نہیں نکالا جاتا لہذا اس لئے کمان اینڈ کنڈیشن کی تبدیلی مناسب نہیں ہے. یقینا یہ عمل مقبوضہ کشمیر، افغانستان میں قیام امن کی کوشش اورعلاقائی سکیورٹی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے.
وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں کے تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ایسے وقت میں ہوئی جب بھارت بین الاقوامی قاعدوں قوانین کو پاﺅں تلے کچلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے‘ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے‘کنٹرول لائن پر بلاجواز جارحیت کیساتھ بھارت نے آبی جارحیت سے بھی گریز نہیں کررہا ہے. پاکستان کا یہ حال ہے کہ یہاں ہر مسلے کے حل کے لئے فوج کی جانب دیکھا جاتا ہے. سیلاب ہی نہیں بلکہ بارش کا پانی تک نکالنے فوج کو بلالنا پڑتا ہے.
سابق صدر امریکہ ابراہیم لنکن کے
مطابق
Don’t change horses in midstream
مطلب اپنے مقاصد کی تکمیل تک اپنی پلاننگ کو تبدیل نہیں کرنا چاہئے.
اس حوالے سے سپر پاور امریکہ کی جانب سے 5 مثالیں موجود ہیں.
امریکہ آرمی چیف
General Tasker H Bliss
کو 1917 میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجانا تھا تاہم پہلی جنگ عظیم کے حالات کی وجہ سے ان کی ملازمت جاری رہی اور وہ 1920 تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے.
1930 میں
General Charles P Summeral
کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی.

General C Marshal
کو 1944 میں توسیع ملی.

General D Wight D Eisenhower
1952 میں ریٹارئر ہوچکے تھے. امریکن صدر نے پھر بلایا اور امریکن افواج کی ذمے داریاں ان کو سونپی. انہوں 1961 تک اپنی ذمے داریاں سر انجام دیں.

General Peter J Schoo Mark
2000
میں ریٹارئر ہوگئے تھے مگر 2003 تک وہ اپنے عہدے پر برقرار رہے.
کسی بھی قسم کی تقاریری پر فائز ہونے والے شخص کو تین سے چار ماہ کا عرصہ اپنے منصب کو سمجھنے میں لگتا ہے. پاکستان کی موجودہ صورتحال تین سے چار ماہ کے گیپ کی متحمل نہیں ہے لہذا اس لئے وزیراعظم پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لئے پاک آرمی کی سربراہی سونپی.
ہندوستان کے ساتھ ساتھ ب چند میڈیا عناصر کو بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبر برداشت نہیں ہورہی ہے لہذا وہ اسے باجوہ ڈاکٹرئن سے جوڑ رہے ہیں.
باجوہ ڈاکٹرئن ہے کیا ؟
اس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ باجوہ ڈاکٹرئن خوشحال پاکستان ہے. آرمی چیف جنرل باجوہ نے جب سے کمان سنھبالی ہے اپنے منصب کے بہت سارے چینلجز کو عبور کیا ہے. جیسے
آپریشن ردالفساد اور خیبر 4 کی کامیابی، کراچی اور بلوچستان کا امن، فاٹا کوقومی دھارے میں لانا، ففتھ جنریشن وار سے نمٹنے کے لئے ملک کے اندورنی معاملات کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن اٹینڈ کرنا، علماؤں سے ملاقات، تاجروں سے بات چیت، کرتا پور بارڈر کھول کر، سکھ برداری کو ان کی عبادتگاہ تک جانے کے لئے مکمل سیکورٹی کی فراہمی، مدارس کے بچوں کی حوصلہ، ملٹری ڈپلومیسی کے تحت پاکستان کی معاشیات وسفارتکاری کی بہتری کے لئے کوشش اور ملکی مفاد کے بے شمار کام جوکہ جنرل باجوہ سر انجام دے چکے اور دے رہے ہیں. آرمی چیف کی ان کاوشوں کے تحت مئی 2018 میں
عالمی جریدے فوربز نے دنیا بھر کے طاقتور اشخاص کی فہرست جاری کی
پچھتر افراد کی اس لسٹ میں دنیا کی چھٹی بڑی آرمی کے سربراہ، قمر باجوہ کا نام بھی شامل ہے.
جنرل قمر جاوید گیارہ نومبر
1959
کو کراچی میں پیدا ہوئے ہیں.
انہوں نے کینیڈین آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی.
جنرل قمر باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات رہے.
وہ سب سے بڑی کور ٹین کی کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ انہوں نے اسی کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔
انہیں کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی۔
وہ کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
جنرل قمر کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں۔
وہ ماضی میں انفنٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی کر چکے ہیں